83 سال بعد پاکستان کے معیاری وقت میں اہم تبدیلی کا فیصل.

36

اسلام آباد – پاکستان کے معیاری وقت میں 83 سال بعد اہم تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ نے پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے قانون میں ترمیم منظور کر کے 1943 کی وہ عبارت حذف کر دی ہے جس میں ملک کا وقت گرین وچ مین ٹائم (GMT) سے ساڑھے پانچ گھنٹے آگے بتایا گیا تھا ۔
ترمیم کے بعد پاکستان کا معیاری وقت GMT سے 5 گھنٹے آگے درج ہوگا، یعنی وقت کا فرق آدھا گھنٹہ کم کر دیا گیا ہے ۔
قومی اسمبلی نے یہ بل 11 مئی کو جبکہ سینیٹ نے 18 اگست کو منظوری دی ۔
یہ ترمیم اسٹینڈرڈ ٹائم (انٹرپریٹیشن آف ریفرنسز) آرڈیننس 1943 میں ترمیم کرتی ہے، جس میں سے “اور آدھا” کے الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں ۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو جائے گا ۔
اس ترمیم کا مقصد قانون میں درج وقت اور پاکستان کے اصل وقت (جو 1951 سے UTC+5 ہے) کے درمیان تضاد کو دور کرنا ہے ۔
قانون کے تحت پاکستان کا وقت “پانچ اور آدھا” گھنٹے آگے درج تھا، جبکہ حقیقت میں پاکستان پانچ گھنٹے آگے ہے۔ یہ تضاد تقسیمِ ہند سے پہلے کی وقت کی پیمائش کا باقی ماندہ ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے گھڑیوں، کام کے اوقات یا شہریوں کے معمولات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ پاکستان پہلے ہی سات عشروں سے زیادہ عرصے سے عملی طور پر UTC+5 پر کام کر رہا ہے
یہ محض قانونی عبارت کو حقیقت کے مطابق کرنے کا عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں