مانسہرہ – مانسہرہ کے سب سے مصروف ایبٹ آباد روڈ اور مین چوک پر آئے روز کے سیاسی و مذہبی جلسوں سے تنگ آکر تاجر برادری نے ضلعی انتظامیہ کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس مسئلے کے حل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
تاجروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے دوسری مرتبہ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ سے ملاقات کر کے اپنے خدشات اور مطالبات پیش کیے۔ تاجروں نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ مین چوک اور ایبٹ آباد روڈ کو جلسے جلوسوں کا مرکز بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کو تجارتی مرکز اور اہم شاہراہ پر جلسہ یا احتجاج کرنے کی مطلق اجازت نہ دی جائے۔
تاجروں نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک انوکھے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ جمعرات کو محض 11 افراد نے صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک مصروف ترین ایبٹ آباد روڈ پر 40 خالی کرسیاں رکھ کر اسے باقاعدہ ڈرامے یا تھیٹر میں تبدیل کیے رکھا۔ جب تاجروں نے کاروباری نقصان کی وجہ سے احتجاجاً انہیں روکنے کی کوشش کی تو معاملہ تلخ کلامی تک جا پہنچا، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
تاجروں نے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے سامنے دو اہم مطالبے رکھے:
ایبٹ آباد روڈ اور مین بازار میں روزانہ کے احتجاجی مظاہروں پر فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر کے مکمل پابندی لگائی جائے
مظاہرین کو ٹی ایم اے پارک (پریس کلب کے سامنے) میں جگہ فراہم کی جائے تاکہ میڈیا کوریج کا مقصد بھی پورا ہو اور عام شہریوں و تاجروں کا کاروبار بھی متاثر نہ ہو
تاجر برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ کیے تو وہ خود احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
مانسہرہ: ایبٹ آباد روڈ پر جلسوں سے تنگ تاجروں کا الٹی میٹم، ڈپٹی کمشنر کو دوسری مرتبہ طلب
24