پنجاب کا متنازعہ انسداد دہشتگردی ترمیمی بل: خفیہ عدالتیں اور گمنام جج

28

لاہور – پنجاب حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ایک ایسی ترمیم منظور کی ہے جس نے قانونی حلقوں میں شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت “خفیہ عدالتیں” قائم کی جا سکیں گی، جہاں مقدمات میں شامل جج، پراسیکیوٹر، دفاعی وکیل، پولیس افسر اور گواہ کی شناخت خفیہ رکھی جا سکے گی۔
یہ بل پنجاب اسمبلی سے یکم ستمبر 2026 کو منظور ہوا، جبکہ اپوزیشن نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔ اس کے تحت:
· نامزد اتھارٹی: بی ایس-20 یا اس کے مساوی گریڈ کا ایک خفیہ افسر کسی مقدمے کو “اسپیشل سیکیورٹی کیس” قرار دے سکے گا۔ اس افسر کی شناخت بھی خفیہ رکھی جائے گی اور صرف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔
· خفیہ کارروائی: ایسے مقدمات کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے جیل یا کسی محفوظ مقام سے کی جا سکے گی اور گواہوں کی شناخت چھپانے کے لیے آواز تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکے گی۔
· گمنام فیصلے: عدالتی احکامات میں جج کا نام درج کرنے کے بجائے صرف عہدے کا عنوان استعمال کیا جائے گا اور گواہوں کی شناخت کوڈز کے ذریعے کی جائے گی۔
· اپیل میں بھی نفاذ: یہ خصوصی سیکیورٹی انتظامات صرف ٹرائل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اپیل کی کارروائی کے دوران بھی جاری رکھے جا سکیں گے۔
اس ترمیم کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کا کہنا ہے کہ اس بل کا نام “بلڈوزنگ سٹیزن آف پنجاب” ہونا چاہیے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے گورنر پنجاب کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بل پر دستخط نہ کریں اور اسے مزید غور کے لیے اسمبلی کو واپس بھیج دیں۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ بل آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10A، 14 اور 25 سے متصادم ہے جو شہریوں کو منصفانہ ٹرائل اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ٹرائل اور گمنام فیصلے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانون میں ترمیم ہے، جس کا مقصد غیر معمولی سیکیورٹی خطرات والے مقدمات کو خصوصی انداز میں نمٹانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون ہر مقدمے کے لیے نہیں بلکہ صرف ان مقدمات کے لیے ہے جن میں سیکیورٹی خطرات کی تصدیق ہو۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور ماضی میں گواہوں کے تحفظ کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث دہشتگردی کے مقدمات میں ملزمان اکثر رہا ہو جاتے تھے۔
یہ ترمیم اس وقت زیرِ التوا ہے اور گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد ہی قانونی حیثیت اختیار کر سکے گی۔ اس دوران قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اسے آئینی عدالتوں میں چیلنج کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں