لاہور – لاہور میں چند سال قبل ایک خاتون کے قتل کے مقدمے کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مقتولہ سحر سبین کی آن لائن دوستی ایک لاہور کے نوجوان کاشف سے ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان واٹس ایپ پر رابطہ بھی قائم ہو گیا۔
دوستی اور تنازع کا آغاز
بعد ازاں سبین نے کاشف کی ملاقات کراچی کی رہائشی الفت سے بھی کرائی، جس کے ساتھ کاشف کی دوستی بڑھ گئی اور دونوں کی ملاقاتیں لاہور اور کراچی میں ہوئیں۔
پولیس کے مطابق بعد میں سبین نے مبینہ طور پر کاشف اور الفت سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز مختلف گروپس میں شیئر کرنا شروع کر دیں، جس پر دونوں نے اس سے جان چھڑانے کا منصوبہ بنایا۔
قتل کا واقعہ
واقعے سے ایک روز قبل سبین اور الفت کراچی سے لاہور آئیں اور گلبرگ کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ بعد ازاں کاشف انہیں راوی کے قریب لے گیا، جہاں پولیس کے مطابق کاشف اور الفت نے سبین پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئی۔
تفتیش اور گرفتاریاں
پولیس نے لاش کی شناخت نادرا ریکارڈ اور کال ڈیٹا کی مدد سے کی، جبکہ کراچی پولیس کی معاونت سے الفت کو ٹریس کر کے لاہور لایا گیا اور کاشف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
دورانِ تفتیش دونوں ملزمان ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے رہے، تاہم پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجہ مبینہ طور پر نازیبا مواد شیئر کرنے کا تنازع سامنے آیا۔
قانونی کارروائی
کاشف اور الفت کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی گئی اور دونوں اس وقت جیل میں قید ہیں، جبکہ مقتولہ کے اہل خانہ ایک ہفتے بعد اس کی میت کراچی لے گئے تھے۔
یہ وقوعہ تین سال قبل پیش آیا، تاہم ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔
لاہور: آن لائن دوستی کا انجام — سحر سبین قتل کیس، تین سال بعد پھر وائرل
30