وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب: توانائی بحران کے خدشے پر بڑے کفایت شعاری اقدامات کا اعلان.

18

شہباز شریف کا کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں 3چھٹیوں،سکولوں میں2ہفتوں کی تعطیلات ،50فیصد عملے کیلئے ورک فرام ہوم ، 2ماہ کیلئے سرکاری محکموں کو ملنے والے تیل میں 50فیصد ،ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25فیصد کٹوتی ، وفاقی وزرائ، گورنرز، مشیروں کے بیرون ممالک دورے پر پابندی کا اعلان
ایران اور خلیجی ممالک پر ہونیوالے حملے قابل مذمت، آزمائش کی گھڑی میں برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ لازم، کوشش ہے بوجھ عوام پر نہ پڑے،اشرافیہ اور صاحب ثروت افرادکڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں ذخیرہ اندوز، منافع خورصورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون حرکت میں آئیگا ،وزیراعظم شہبازشریف کاقوم سے خطاب
اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطی کی کشیدہ صورت حال اور ممکنہ توانائی بحران کے پیش نظر کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں 3چھٹیوں، سکولوں میں 2ہفتوں کی تعطیلات، 50فیصد عملے کیلئے ورک فرام ہوم ،آئندہ 2ماہ کیلئے سرکاری محکموں کو ملنے والے تیل میں فی الفور 50فیصد ،ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25فیصد کٹوتی ، وفاقی وزرائ، گورنرز، مشیروں کے بیرون ممالک دورے پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور خلیجی ممالک پر ہونیوالے حملوں کی مذمت کرتا ہے، آزمائش کی گھڑی میں برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، کشیدہ حالات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے ،تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی ، کوشش ہے اضافے کا بوجھ عوام پر نہ پڑے،اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں دلوں میں خوف خدا پیدا ،دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں،ذخیرہ اندوز، پیٹرول و ڈیزل کے ناجائز منافع خورصورت حال کا ہرگز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا ،مضبوط باوقار قوم ہی مشکل گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے،مقصد بلند ،نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطی شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بردار مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے ، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا،ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معیشت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی،مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعائوں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،گھر کے بزرگوں کی دوائی کیلئے پیسے کم پڑ جائیں ،بچوں کے تعلیمی اخراجات کی فکر ہو تو کرب ہوتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگاکوشش ہے تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ عوام پر نہ پڑے، دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں،انشا اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں ،اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلئے آگے بڑھ کر قربانی دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، آئندہ 2ماہ کیلئے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا 50فیصد پیٹرول کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایمبولینس اور عوامی استعمال کی بسوں کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا،تیل کی بچت کیلئے تمام سرکاری محکموں کی 60فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے، 2ماہ کیلئے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں میں سے 25فیصد کٹوتی ہوگی۔ شہباز شریف نے بتایا کہ گریڈ20اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ 3لاکھ سے زائد ہے کی 2دن کی تنخواہ کاٹ کر عوامی ریلیف کیلئے استعمال ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں بھی20فیصد کمی کی جارہی ہے،سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے،وفاقی وزرا، مشیروں اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد ہوگی صرف ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی،گورنرز پر بھی عائد ہوگی،آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ہوسکے،سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایندھن اور توانائی کی بچت کیلئے انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا ،ہفتے میں ایک اضافی چھٹی ہوگی، ورک فراہم ہوم ہفتے میں 4دن دفاتر کھلیں گے، اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت کے شعبوں پر بھی گھر سے کام کرنا ہوگا تاہم ہفتے کی اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فوری طور پر تمام سکولوں کو دو ہفتوں کیلئے بند کردیا گیا ہے،ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذخیرہ اندوز، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خورصورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں، قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا اور بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔ شہباز شریف نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو نئے چیلنج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں،پاکستان کو نازک ترین موڑ پر اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے، یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں