عاطف تاج سواتی قتل کیس میں ڈرامائی تبدیلی، کیس نیا رخ اختیار کر گیا

64

مانسہرہ: عاطف تاج سواتی قتل کیس میں ڈرامائی تبدیلی، کیس نیا رخ اختیار کر گیا. مزید حقائق کا انکشافات، خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں ہم موقع پر نہیں تھے، قاتل ہی پرچہ میں گواہ بن گئے ہیں.

عدلیہ و پولیس پر مکمل اعتماد ہے. غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں. عماد اقبال سواتی کی ہنگامی پریس کانفرنس. تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مانسہرہ تھانہ سٹی حدود چٹی ڈھیری میں قتل ہونے والے عاطف تاج کے چچا زاد گورنمنٹ ٹیچر عماد اقبال سواتی نے پریس کلب میں ضمانت قبل از گرفتاری کرانے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عاطف تاج سواتی ہمارا چچا زاد بھائی تھا.

جس کے قتل کا دکھ و افسوس ہمیں بہت زیادہ ہے. ہمارا اراضی تنازعہ عابد تاج اور زاہد تاج سے چل رہا تھا. جس کا اہلیان چٹی ڈھیری کو بخوبی علم ہے. عاطف تاج ہمارے خوشی و غم میں برابر کا شریک تھا. 2016 میں عابد تاج و زاہد تاج سے ہونے والے اراضی تنازعہ پر سابق تحصیل ناظم خرم خان کے حجرہ پر باضابطہ جرگہ ہوا.

جس پر عابد تاج نے بروئے جرگہ باقاعدہ دستخط کئے. جس کے سٹام پیپر پر ڈیڑھ سو سے زائد اہل علاقہ و عمائدین جرگہ افراد کے دستخط موجود ہیں. زاہد تاج جب بعد ازاں اٹلی سے واپس آیا تو اس نے جرگہ اور اس کی تحریر کو نہ مانتے ہوئے کہا کہ میں ایسے جرگہ کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں. عماد اقبال سواتی نے کہا کہ ہم اپنے بھائی عاطف تاج کا قتل رائیگاں نہیں جانے دیں گے.

ہم عدلیہ و پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عاطف تاج سواتی قتل کیس کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے تو اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں. ہماری موبائل فون لوکیش چیک کی جائے. انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر ٹریکٹر اور میٹیریل لانے والا زاہد تاج تھا.

عماد اقبال سواتی نے عدلیہ و محکمہ پولیس کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروا کے اصل حقائق سامنے لانے جائیں اور مقتول عاطف تاج سواتی سمیت ہمیں انصاف فراہم کیا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں