ہریپور : جعلی زرعی قرضہ اسکینڈل میں اہم پیش رفت، فیصل مسعود کی ضمانت منظور۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ہری پور میں سامنے آنے والے جعلی زرعی قرضہ اسکینڈل میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ نے کیس میں نامزد ملزم اور ایچ بی ایل کے زرعی ٹیم لیڈر فیصل مسعود کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ریجنل ریکوری منیجر حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کی تحریری رپورٹ پر انکوائری مکمل ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق جعلی اور بوگس زمینوں کے کاغذات استعمال کر کے ایچ بی ایل ہری پور سے زرعی قرضے حاصل کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بعض کیسز میں زمین کی مارکیٹ ویلیو قرضہ کی رقم سے کم تھی جبکہ کئی اکاؤنٹس میں زمین کی مالیت ڈی سی ریٹ سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
ایف آئی اے کی تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 171 اکاؤنٹس کے ذریعے 471 ملین روپے (تقریباً 47 کروڑ روپے) کا فراڈ کیا گیا۔ اس مبینہ فراڈ میں فیصل مسعود، بینک کے دیگر عملے اور چند سرکاری اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔
زمینوں کے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے ڈپٹی کمشنر ہری پور سے رابطہ کیا گیا، جہاں پٹواریوں کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ میں رد و بدل، زمین کی زائد قیمتیں اور بعض کیسز میں زمین کے سرے سے موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ مزید تحقیقات میں بعض دستاویزات پر جعلی مہریں اور دستخط بھی پائے گئے جو متعلقہ پٹواریوں کے نہیں تھے۔
دوسری جانب، پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ نے Cr. M No. 849-A/2025 کی سماعت کے بعد فیصل مسعود کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم دو مقامی، بااعتماد اور صاحبِ حیثیت ضمانت دار پیش کرے۔
فیصل مسعود پر FIR نمبر 96، مورخہ 14 جون 2024 کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 406، 408، 409، 417، 419، 420، 468، 469، 471، 472 اور 109 کے تحت مقدمہ درج ہے، جو ایف آئی اے / سی سی پولیس اسٹیشن ایبٹ آباد میں زیرِ تفتیش ہے۔
عدالت کی جانب سے حکم جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضمانت کی وجوہات بعد میں تفصیلی فیصلے میں قلمبند کی جائیں گی، جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے کیس کی مزید تفتیش اور دیگر ملوث افراد کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔