خیبرپختونخوا — صوبائی حکومت کی جانب سے گیس پالیسی کے حوالے سے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں حکومت کے مؤقف کو بعض حلقوں کی جانب سے متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے چند روز قبل وفاقی حکومت کو گیس کی بندش کے معاملے پر 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا، جس میں صوبے کے صنعتی اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
تاہم اس کے صرف دو روز بعد جب صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کھولے گئے، تو خیبرپختونخوا حکومت نے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی ہیں کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی فوری طور پر معطل کی جائے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ گیس کی قلت اور گھریلو صارفین کی ضروریات کو ترجیح دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ عام شہریوں کو سردیوں یا لوڈ مینجمنٹ کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر مختلف حلقوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وفاقی حکومت کو گیس فراہمی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف صوبائی سطح پر خود ہی سی این جی سیکٹر کو گیس بند کی جا رہی ہے، جسے بعض افراد نے “دوغلی پالیسی” سے تعبیر کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود گیس وسائل میں ترجیح عام صارفین کو دی جائے گی اور صنعتی یا تجارتی سیکٹر میں مرحلہ وار پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ گیس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے آئندہ بھی ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسی پر سوالات، سی این جی گیس فراہمی معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری.
23