مانسہرہ جلسے میں موبائل فون چوری کا انکشاف، پولیس رویے پر متاثرین کے تحفظات.

24

مانسہرہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے مشیر سہیل آفریدی کے جلسے کے دوران درجنوں افراد کے موبائل فون مبینہ طور پر چوری ہو گئے، جس کے بعد متاثرہ کارکنوں اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
متاثرہ افراد کے مطابق جلسے کے اختتام پر جب انہوں نے اپنے موبائل فون چیک کیے تو معلوم ہوا کہ متعدد افراد کے قیمتی موبائل فون غائب ہو چکے ہیں۔ متاثرین نے فوری طور پر تھانہ سٹی پولیس سے رابطہ کیا اور قانونی کارروائی کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔
کارکنوں کا الزام ہے کہ تھانہ سٹی پولیس نے موبائل چوری کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے صرف موبائل گمشدگی کی رپورٹس درج کیں، جس پر متاثرہ افراد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ کارکنوں کے مطابق پولیس کا یہ رویہ چوروں کی سرپرستی کے مترادف ہے، کیونکہ چوری کا مقدمہ درج نہ ہونے کی صورت میں ملزمان تک پہنچنا اور موبائل فون کی برآمدگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
شہریوں اور متاثرہ افراد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، جلسے کے دوران موجود مشکوک افراد کی نشاندہی کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے، جبکہ متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں