🚨 بورے والا: چھ سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کا انسانی ڈھانچہ برآمد 🚨

18

بورے والا کے نواحی علاقے 435 ای بی میں دورانِ کھدائی خاتون کا انسانی ڈھانچہ برآمد ہونے کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس کے مطابق ڈھانچے کے قریب چوڑیاں اور گلے سڑے کپڑے بھی موجود تھے، جس کے بعد لاش کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
مقامی سماجی ورکر مسرت شاہین نے برآمد ہونے والے ڈھانچے اور دیگر اشیاء کی شناخت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ان کی بیٹی عظمیٰ کا ڈھانچہ ہے، جو چھ سال قبل تھانہ سٹی کے علاقے سے اغواء ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق عظمیٰ کے اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود پولیس مغویہ کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ لڑکی کو مبینہ طور پر قتل کر کے لاش مذکورہ مقام پر دفن کی گئی تھی۔
پولیس تفتیش کے مطابق مقدمے میں خرم بھٹی نامی شخص کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جبکہ کیس میں ایک معروف ڈاکٹر کا نام بھی سامنے آیا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت میں مدعیہ کے بیان کے بعد ڈاکٹر کا نام مقدمے سے خارج کر دیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈھانچے کو فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں