آئس (Ice) — سفید موت، ہماری آنے والی نسلوں کا خاموش قاتل.

27

آئس (Methamphetamine) ایک ایسی مہلک نشہ آور شے ہے جو پاکستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ایک قومی اور سماجی تباہی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ صرف ایک منشیات نہیں بلکہ ایک ایسی “سفید موت” ہے جو نوجوانوں، خاندانوں اور پوری قوم کے مستقبل کو نگل رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیروئن کا نشہ انسان کو کئی برسوں میں تباہ کرتا ہے، جبکہ آئس چند ماہ کے اندر ہی انسان کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کر دیتا ہے۔ یہ نشہ نوجوانوں کو ڈپریشن، تشدد، نفسیاتی امراض، جرائم اور موت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
آئس کہاں سے آ رہی ہے؟
سیکیورٹی اور انسدادِ منشیات کے ماہرین کے مطابق آئس کی بڑی مقدار افغانستان سے سمگل ہو کر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے راستے ملک کے مختلف شہروں تک پہنچ رہی ہے۔ اگرچہ سرحدوں اور چیک پوسٹوں پر نگرانی کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن بدعنوانی، رشوت اور ناقص نگرانی کے باعث یہ زہر ملک بھر میں باآسانی پھیل رہا ہے۔
سب سے بڑا خطرہ: سستی اور آسان دستیابی
ہیروئن نسبتاً مہنگی ہے، جبکہ آئس کی کم قیمت نے اسے نوجوانوں اور غریب طبقے کے لیے بھی قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ تک بھی یہ زہر پہنچ رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
ریاست سے مطالبات
1۔ سرحدی نگرانی سخت کی جائے
افغانستان سے ہونے والی منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے اور انسدادِ منشیات کے اداروں کو مکمل اختیارات دیے جائیں۔
2۔ رشوت اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس
منشیات کی ترسیل میں سہولت کاری کرنے والے عناصر اور بدعنوان اہلکاروں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے، جبکہ منشیات کی بڑی کھیپ پکڑنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
3۔ غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن
ملک کے مختلف شہروں میں منشیات تیار کرنے والی غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے، کیونکہ ایسی فیکٹریاں ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
4۔ مفت علاج اور بحالی مراکز
آئس کا شکار افراد صرف مجرم نہیں بلکہ علاج کے محتاج مریض بھی ہیں۔ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتال میں جدید ڈیٹاکس اور بحالی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو دوبارہ ایک صحت مند زندگی کی طرف لایا جا سکے۔
قومی سلامتی کا مسئلہ
اگر آج اس ناسور کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو صحت مند، تعلیم یافتہ اور قابل نوجوان افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئس صرف ایک منشیات نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں، معاشرتی ڈھانچے اور قومی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
آئس کے خلاف جنگ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسلوں کو اس سفید موت سے نہ بچایا تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں