بنوں: سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، جس میں مبینہ طور پر چند مسلح افراد ایک اسکول کے ماحول کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں، تعلیم کے تحفظ اور شدت پسندی کے اثرات پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
تعلیمی حلقوں اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ویڈیو یا پیغام کے ذریعے تعلیم یا تعلیمی اداروں کو حقارت کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے ایسے بیانیے کو تقویت مل سکتی ہے جو ماضی میں خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا میں تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شدت پسندی کے باعث خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا میں متعدد تعلیمی ادارے حملوں کا نشانہ بنے، جس سے ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں طویل عرصے تک معطل رہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، امن اور خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے تعلیمی اداروں کا تحفظ اور ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سماجی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اگر کسی واقعے میں قانون شکنی یا تشدد پر اکسانے کے شواہد موجود ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی والدین، اساتذہ اور مقامی کمیونٹیز سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ، اسکولوں کی حمایت اور بچوں کی تعلیمی حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کریں۔
تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد علم، تحقیق اور تعلیم پر ہوتی ہے، اور پائیدار ترقی کے لیے ہر بچے کو محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
بنوں میں اسکول سے متعلق وائرل ویڈیو پر تشویش، تعلیم دشمن بیانیے پر سوالات.
25