کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر کارروائی کرتے ہوئے عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جانے والی تین خواتین کو آف لوڈ کر دیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں جو عمرہ ویزوں کی آڑ میں خواتین کو سعودی عرب بھجوا کر تجارتی جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہو سکتا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن کلیئرنس کے دوران خواتین کے سفری دستاویزات اور فراہم کردہ معلومات مشکوک محسوس ہونے پر انہیں مزید تفتیش کے لیے روک لیا گیا۔ پوچھ گچھ اور موبائل فونز کے فرانزک جائزے کے دوران مبینہ طور پر ایسے شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر کیس کو مزید تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایک موبائل فون سے مبینہ ریٹ لسٹ، جبکہ دوسرے فون سے سعودی عرب میں موجود متعدد افراد سے واٹس ایپ چیٹس اور حوالہ و ہنڈی سے متعلق ریکارڈ ملا، جس سے انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کے بارے میں شبہات مضبوط ہوئے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک خواتین کو سعودی عرب منتقل کرنے، وہاں رہائش اور دیگر انتظامات کرنے اور غیر قانونی ذرائع سے رقوم پاکستان منتقل کرنے میں ملوث ہو سکتا ہے۔
ایف آئی اے نے تینوں خواتین کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر مبینہ ارکان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
عمرہ ویزوں کی آڑ میں مبینہ انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کا نیٹ ورک بے نقاب، 3 خواتین کراچی ایئرپورٹ سے آف لوڈ.
26