اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے کم از کم 335 پاکستانی مختلف کشتی حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2023 سے اپریل 2026 تک یونان اور لیبیا کے راستوں پر پیش آنے والے متعدد بڑے حادثات میں سینکڑوں پاکستانی متاثر ہوئے۔
ایف آئی اے کے مطابق جون 2023 میں یونان کے ساحل کے قریب پیش آنے والا کشتی حادثہ سب سے زیادہ ہلاکت خیز تھا، جس میں 226 پاکستانی سوار تھے۔ اس سانحے میں 207 پاکستانی جاں بحق جبکہ صرف 19 افراد کو بچایا جا سکا۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 میں یونان جانے والی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہوئی، جس میں 69 پاکستانی سوار تھے۔ اس حادثے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 44 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 کے دوران شمالی افریقہ، خصوصاً لیبیا کے راستے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوئے۔ فروری 2025 میں لیبیا کے ساحل پر کشتی الٹنے سے 23 پاکستانی جان سے گئے، جبکہ اپریل 2025، اکتوبر 2025 اور اپریل 2026 کے دوران پیش آنے والے مزید تین بڑے حادثات میں 48 پاکستانی جاں بحق ہوئے۔
ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستے اختیار کرنے کے بجائے قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک سفر کریں، کیونکہ انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آ کر ایسے خطرناک سفر اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
ڈنکی کا خطرناک سفر: چار سالوں میں 335 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے، ایف آئی اے رپورٹ میں ہولناک انکشافات.
20