بھارت کی ریاست آسام میں 15 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں پولیس نے 3 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک 17 سالہ کم عمر ملزم بھی شامل ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقتولہ مبینہ طور پر گرفتار ملزمان میں سے ایک کو جانتی تھی، جبکہ اس کی لاش ہفتے کی رات ایک خالی مکان سے برآمد ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں مقتولہ کے جسم پر شدید تشدد کے آثار پائے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک شواہد سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس نے پہلے پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں 17 سے 19 سال عمر کے تین نوجوانوں کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔
حکام نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ کم عمر ملزم پر جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بالغ فرد کے طور پر مقدمہ چلانے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف قتل، کم عمر بچی سے مبینہ زیادتی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید دفعات شامل کیے جانے اور مزید گرفتاریاں عمل میں آنے کا بھی امکان ہے۔
پولیس نے تفتیش کے لیے متعدد افراد کے موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے ہیں، جبکہ واقعے کے محرک اور دیگر حقائق جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
آسام: 15 سالہ لڑکی کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیس میں 3 نوجوان گرفتار.
24