میکسیکو سٹی، جو میکسیکو کا دارالحکومت اور دنیا کے گنجان آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے، ایک ایسے آتش فشانی علاقے میں واقع ہے جہاں ماضی میں متعدد آتش فشانی سرگرمیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہر کے قریب موجود ایک آتش فشاں تقریباً دو ہزار سال قبل آخری مرتبہ متحرک ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میکسیکو سٹی کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، جس کے باعث شہر پھیلتے پھیلتے اس آتش فشاں کے اطراف تک جا پہنچا۔ بعض علاقوں میں تو آتش فشاں کے کالڈیرا (مرکزی دہانے) کے قریب بھی رہائشی آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اس آتش فشاں کو مکمل طور پر مردہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کے نیچے اب بھی میگما کی موجودگی کے شواہد پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس کے دوبارہ متحرک ہونے کا امکان فوری یا یقینی نہیں، تاہم نظریاتی طور پر اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مستقبل میں یہ آتش فشاں دوبارہ پھٹتا ہے تو قریبی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا اندیشہ موجود ہے۔ تاہم اس حوالے سے مسلسل سائنسی نگرانی اور تحقیق جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
میکسیکو سٹی ایک قدیم آتش فشانی علاقے پر آباد، ماہرین نے ممکنہ خطرے سے خبردار کر دیا.
24