ایران کا دفاعی صلاحیت میں اضافے کا دعویٰ، میزائل اور ڈرون پروگرام مزید مضبوط بنانے کا اعلان.

19

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی کے دوران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ملک دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق جنگ بندی کے دوران موجودہ ہتھیاروں کو جدید بنایا گیا، نئے دفاعی نظام تیار کیے گئے، متاثرہ عسکری تنصیبات بحال کی گئیں اور نئی دفاعی ٹیکنالوجی پر کام تیز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کے ڈرون بھی استعمال کیے گئے، جن کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل اور ڈرون کی پیداوار میں کوئی تعطل نہیں آیا، جبکہ ڈرون کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ چکی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بھی کہا کہ جنگ بندی کے دوران میزائل سازی کی رفتار اور میزائلوں کی درستگی میں مزید بہتری آئی ہے، تاہم اسلحے کے ذخائر سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے قبل موجود میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اور ڈرونز کا 40 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
عرب میڈیا میں یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کو چین میں تیار کردہ کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل مل سکتے ہیں، تاہم چین اور پاکستان نے اس خبر کی تردید کی ہے جبکہ ایران نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔
ادھر یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحیرۂ احمر میں ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد تمام 14 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ خطے میں عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی خدشات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں