فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اہم کارروائی کے دوران عمرے کے ویزے کی آڑ میں کی جانے والی انسانی اسمگلنگ اور کمرشل جنسی استحصال کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت دو مسافروں کو آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
واقعہ کی تفصیل:
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، یہ دونوں مسافر عمرے کے ویزے پر سعودی عرب جانے کے لیے ملتان ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کی مشکوک حرکات پر عملے نے انہیں روک لیا اور مزید جانچ پڑتال کے لیے شفٹ انچارج کے حوالے کر دیا۔

تفتیش اور انکشافات:
تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے:
مسافروں کے موبائل فونز، چیٹس اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی جانچ کی گئی۔
اس دوران کمرشل جنسی استحصال سے متعلق مبینہ شواہد ملے۔
تفتیش سے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا جو عمرہ ویزے کی آڑ میں لوگوں کو سعودی عرب بھیج کر ان کا جنسی استحصال کرتا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ان مسافروں کو سعودی عرب میں کمرشل جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ تھا۔
قانونی کارروائی:
دونوں مسافروں کو ان کے موبائل فونز اور دیگر شواہد کے ساتھ ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایجنسی نے اس منظم نیٹ ورک میں ملوث دیگر عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ اور کمرشل جنسی استحصال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح مذہبی مواقع اور ویزوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال جیسے سنگین جرائم کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کی چوکسی نے ممکنہ طور پر ان دو افراد کو سنگین انجام سے بچا لیا ہے۔