بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا اور شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبے کا کوئی والی وارث نہیں اور عام شہریوں کو مسنگ پرسنز بنا کر غائب کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے سڑکوں پر نکل کر حکام کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو بازیاب کرایا جائے۔ احتجاج کے دوران فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کچھ مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔
یہ واقعہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے لاپتہ افراد کے بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خاموشی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔