کراچی میں پشتون ہوٹل مالک پر پولیس تشدد، مفت چائے اور ناشتے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر غنڈہ گردی.

26

کراچی میں ناگن چورنگی کے قریب ایک پشتون ہوٹل پر پولیس کی مبینہ ظالمانہ کارروائی سامنے آئی ہے۔

واقعہ کے مطابق ایس ایچ او نے مفت چائے اور ناشتہ نہ ملنے پر ہوٹل مالک کو ڈنڈا اٹھا کر مارا۔ بعد ازاں پولیس نے ہاتھ پر پٹیاں باندھ کر ڈرامہ رچایا کہ ہوٹل مالک نے ایس ایچ او کو مارا، لیکن وائرل ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈنڈا کس کے ہاتھ میں تھا اور کسے مارا جا رہا تھا۔

یہ کارروائی تجاوزات کے نام پر نسلی تعصب اور پشتون دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ اصل مسئلہ مفت چائے، ناشتے اور بھتہ خوری کا مطالبہ پورا نہ ہونا تھا۔ جبکہ پورے کراچی میں تجاوزات موجود ہیں لیکن قانون صرف پشتونوں پر ہی کیوں برسایا جاتا ہے؟

پشتون قوم پرست جماعتیں اس ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ راؤ انوار کی فکری اولادیں آج بھی سرگرم ہیں اور محنت کش پشتونوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں