گوگل، مائیکروسافٹ سمیت بڑی ٹیک کمپنیاں تعلیمی اداروں پر قبضہ جمانے لگیں.

19

کراچی – گوگل، مائیکروسافٹ سمیت بڑی ٹیک کمپنیاں تعلیمی اداروں پر تیزی سے اثرورسوخ قائم کر رہی ہیں اور تعلیمی نظام کے تقریباً ہر مرحلے میں اپنی رسائی کو یقینی بنا رہی ہیں۔
بڑے ٹیک اداروں کی بڑھتی مداخلت پر ماہرین اور اساتذہ کی جانب سے سخت سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے مالی وسائل، اثرورسوخ اور وسیع رسائی کے ذریعے امریکی اسکولوں کے تعلیمی نظام میں گہرا اثر پیدا کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیک کمپنیاں تعلیمی سپلائی چین کے کئی اہم حصوں تک پہنچ چکی ہیں، جن میں شامل ہیں:
· اسکولوں کو مفت ڈیوائسز اور سافٹ ویئر فراہم کرنا
· آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کا کنٹرول
· اساتذہ کی تربیت اور سرٹیفیکیشن پروگرامز
· طلباء کا ڈیٹا اکٹھا کرنا اور تجزیہ کرنا
یہ کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور وسیع نیٹ ورک کے ذریعے تعلیمی اداروں کو اپنے پلیٹ فارمز پر منحصر کر رہی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد محض تعلیم کو بہتر بنانا نہیں بلکہ مستقبل کے صارفین کو اپنے ماحول میں ڈھالنا بھی ہے۔
اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس طرح تعلیمی ادارے ٹیک کمپنیوں کے کمرشل مفادات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کا مقصد تنقیدی سوچ اور آزادانہ فکر کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی ایک ادارے کا صارف بنانا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اس معاملے میں قانون سازی اور نگرانی کے ذریعے مداخلت کرنی چاہیے تاکہ تعلیمی ادارے اپنی آزادی برقرار رکھ سکیں اور طلباء کا ڈیٹا تحفظ کیا جا سکے۔
اس معاملے پر مزید تحقیق اور قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے درمیان صحت مند توازن قائم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں