پشاور بورڈ کی فیسوں میں 100 فیصد اضافے پر ایمل ولی خان کا شدید احتجاج.

24

پشاور – عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے مختلف فیسوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے طلباء کے ساتھ کھلا ظلم قرار دیا ہے 。
ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ بورڈ کی ناقص کارکردگی کے باوجود ایک ہی سال میں مختلف فیسوں میں 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو طلباء کی سہولت اور معیاری امتحانی نظام فراہم کرنے کے بجائے “پیسے بنانے کی مشین” بنا دیا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ایڈمیشن فیس، مائیگریشن، ری اپیئرنگ اور ری ٹوٹلنگ سمیت مختلف مدات میں بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں، جو غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم جاری رکھنا ناممکن بنا رہی ہیں
سینیٹر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ:
· پشاور بورڈ کی جانب سے فیسوں میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے
· فیسوں کے تعین کے طریقہ کار اور بورڈ کے مالی معاملات کا شفاف آڈٹ کرایا جائے
· طلباء کے امتحانی نتائج اور ری ٹوٹلنگ سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے آزادانہ اور مؤثر نظام قائم کیا جائے
ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں ۔ ایسے میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ غریب طلباء کو تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بورڈ کی کارکردگی اور امتحانی نظام ہی سوالیہ نشان ہے تو فیسوں میں اضافہ کیسے جائز ہو سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں