سرحد یونیورسٹی میں آرمی آفیسر کی طالب علم پر تشدد، ہوائی فائرنگ کے بعد پولیس نفری طلب.

28

اسلام آباد – سرحد یونیورسٹی میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ اطلاعات کے مطابق، آرمڈ فورسز کے ایک آفیسر نے کسی نوجوان طالب علم کو لاٹھی سے مارا، جس کے بعد طلباء نے افسر پر حملہ کردیا۔ جواب میں افسر نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کردی، جس سے یونیورسٹی کے حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی۔
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مسلح افواج کے افسر نے یونیورسٹی میں کسی طالب علم کو لاٹھی سے مارا۔ طالب علموں نے اس تشدد پر احتجاج کرتے ہوئے افسر کو گھیر لیا اور بعد ازاں اس پر حملہ کردیا۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کر افسر نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی، جس سے پورے کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
طلباء نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملزم افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ طلباء کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں طلباء کے تحفظ اور سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو طلباء کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے تشدد کو سختی سے روکا جانا چاہیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں