دبئی/کھٹمنڈو – نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران دبئی میں مقیم 35 سالہ بھارتی شہری راج مہتا معجزانہ طور پر محفوظ رہے، تاہم ان کا قریبی دوست تاحال لاپتا ہے۔
کَیلاش مانسروور یاترا اور سانحہ
راج مہتا کَیلاش مانسروور یاترا پر گئے ہوئے تھے اور اپنے دوست کے ساتھ اس سفر میں شریک تھے ۔ دونوں کو مختلف گروپس میں رکھا گیا۔
· راج کا گروپ 15 اگست کو روانہ ہوا۔
· ان کا دوست 14 اگست کو شروع ہونے والے S3 گروپ میں شامل تھا۔
26 اگست کو چین، نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے تباہی مچ گئی ۔ ماہرین کے مطابق یہ سانحہ گلیشیئر کے ٹوٹنے اور برفانی جھیل کے پھٹنے (GLOF) کی وجہ سے پیش آیا ۔
S3 گروپ کے 77 افراد اس وقت گائیرونگ پورٹ کے چینی امیگریشن مرکز میں موجود تھے اور اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا ۔
“میرے دوست نے اس روز صبح مجھے پیغامات بھیجے، لیکن اچانک واٹس ایپ پر پیغامات صرف ایک ٹِک دکھانے لگے۔ بعد میں مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہی عمارت، جہاں میرا دوست موجود تھا، ملبے اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر تباہ ہوچکی ہے۔”
راج نے بتایا کہ صرف ایک دن کے فرق سے ان کی جان بچی کیونکہ انہیں اگلے 24 گھنٹوں میں اسی عمارت میں پہنچنا تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنے دوست کے لیپ ٹاپ اور نیپالی سم کے ذریعے آخری لوکیشن تلاش کی تو وہ بھاری ملبے کے نیچے دکھائی دے رہی تھی۔
اج کا کہنا ہے کہ دوست کے ساتھ گزرا آخری وقت اور اس کے ممکنہ حالات انہیں مسلسل پریشان کر رہے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں ۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں:
· نیپال میں 1,114 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں
· تبت میں 31 افراد ہلاک اور 531 لاپتا ہیں
· ہزاروں افراد ابھی تک لاپتا ہیں
دبئی میں مقیم بھارتی شہری کا کَیلاش مانسروور یاترا کے دوران سانحے سے معجزانہ بچاؤ، جبکہ ان کا دوست تاحال لاپتا
32