اسلام آباد – دریائے چناب پر پاکستان سے صرف 38 میل کے فاصلے پر واقع سلال ڈیم ایک ایسا آبی منصوبہ ہے جو پاکستان کے لیے دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ ڈیم بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف سیلاب کے دنوں میں یہ پاکستان کو بڑے سیلابی ریلے کا سامنا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
سلال ڈیم 1987 میں 930 کروڑ انڈین روپے کی لاگت سے مکمل ہوا اور اس کی بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 690 میگاواٹ ہے ۔ یہ ڈیم 21 ہزار 497 سکوائر کلومیٹر علاقے کا پانی جمع کرتا ہے اور سیلاب کے دنوں میں 22 ہزار 427 کیوبک میٹر (8 لاکھ کیوسک) پانی خارج کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ 1960 کے تحت چناب دریا پاکستان کو ملا، لیکن بھارت نے ابتدائی دنوں سے ہی اس ڈیم کی تعمیر کی خواہش ظاہر کی۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ پاکستان کی سرحد کے اس قدر قریب ڈیم بننے سے پاکستان کو اچانک ڈبویا جا سکتا ہے۔
کئی سالوں کی کوششوں کے بعد 1978 میں نئی دہلی میں اس ڈیم کی تعمیر پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ڈیم کے ڈیزائن میں غیر معمولی تبدیلیاں کی گئیں:
· کنکریٹ کے بلاکس کی تعمیر تاکہ پانی کی رفتار کم رکھی جا سکے
· ڈیم کو پانی سٹور کرنے کے بجائے چلتے دریا پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے
· دروازے کم اونچائی والے رکھے گئے
سلال ڈیم میں سالانہ بنیادوں پر 32 ملین کیوبک میٹر تک سلٹ آتی رہی، جس نے اس کی گنجائش کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق:
“آج یہ ڈیم اپنی گنجائش کا 95 فیصد حصہ کھو چکا ہے۔”
اس ڈیم کے 12 بڑے دروازے اور سپل ویز ایک ساتھ 22 ہزار 427 کیوبک میٹر پانی خارج کر سکتے ہیں، جو 8 لاکھ کیوسک بنتی ہے۔
انڈیا اب سلال ڈیم کی تعمیرات میں کنکریٹ یا پتھروں کو نکالنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، جس سے:
· ڈیم میں موجود گاڑا ختم ہو جائے گا
· پانی کی رفتار تیز ہو جائے گی
· جدید طرز کے گیٹ انسٹال ہوں گے، جو کم از کم 10 فٹ مزید بلند ہوں گے
اس کے بعد پاکستان کو مون سون میں ہر سال بڑے سیلابی ریلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پرزور تنقید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے ۔ عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا ۔
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی فورمز پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
سلال ڈیم پاکستان کے لیے ایک سنگین آبی چیلنج ہے۔ اس ڈیم کی موجودہ حالت اور انڈیا کے نئے منصوبے پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے پر سفارتی اور قانونی محاذ پر متحرک رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے آبی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
سلال ڈیم: پاکستان کے لیے خطرہ یا توانائی کا ذریعہ؟
23