شارقہ – متحدہ عرب امارات کی ریاست شارقہ کی شرعی عدالت نے ایک منفرد اور اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک شوہر کو اس کی بیوی پر جادو ٹونے اور جنات سے متعلق رسومات میں ملوث ہونے کے الزام کو ثابت شدہ قرار دیتے ہوئے ناقابلِ رجوع طلاق دے دی ہے۔ عدالت نے بچوں کی حضانت بھی والد کے حوالے کر دی ۔
شوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس کی بیوی اور اس کے خاندان کی مبینہ سرگرمیوں سے نہ صرف ازدواجی زندگی متاثر ہوئی بلکہ ان کے دو بچوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ شوہر کے مطابق، بچوں میں اندھیرے سے خوف، بستر گیلا کرنے، ناخن چبانے اور نیند میں دانت پیسنے جیسی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ وہ جن کا نام بتاتے تھے ۔
شوہر نے عدالت کو سابقہ کارروائی میں بیوی کے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں اس نے ایک جن، جس کا نام “حمروش” بتایا گیا، کے ذریعے علاج کیے جانے کا ذکر کیا تھا۔
شارقہ کی شرعی عدالت نے مقدمے کے تمام شواہد اور دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا ناممکن بنانے کے لیے ثابت شدہ نقصان کافی تھا۔
عدالت نے شوہر کے حق میں ناقابلِ رجوع طلاق کا فیصلہ سنایا ۔ مزید برآں، عدالت نے دونوں بچوں کی حضانت بھی والد کے حوالے کر دی، کیونکہ اس کے مطابق بچوں کے بہترین مفاد میں والدہ کے پاس رہنا مناسب نہیں تھا ۔
اس فیصلے کے تحت بیوی کو مؤخر مہر، عدت کے دوران نان نفقہ اور متعہ سمیت بعض مالی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اسے بچوں کو والد کے حوالے کرنے اور 5 ہزار درہم قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد ہے، جہاں جادو ٹونے کے الزامات کو ایک مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے طلاق اور حضانت کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسلامی قانون میں جادو ٹونے کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، اور یہ فیصلہ اس قانونی اصول کی عکاسی کرتا ہے ۔
شارقہ، اپنے ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے، اور اس کی عدالتوں میں شرعی قانون کو مقدمات کی بنیاد بنایا جاتا ہے ۔ اس فیصلے نے جادو ٹونے اور خاندانی قانون کے سنگم پر ایک اہم مثال قائم کی ہے، جس میں عدالت نے بچوں کی بہبود کو اولین ترجیح دی۔
شارقہ: جادو ٹونے کے الزام پر شوہر کو طلاق، بچوں کی حوالگی بھی والد کے حوالے.
26