پاکستان کی سفارت کاری اور معیشت: “چرچا تو بہت ہوا، مگر حقیقت کیا ہے؟”

29

اسلام آباد – حالیہ عالمی اور علاقائی پیش رفت کے تناظر میں ایک سوال ہر طرف اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ روک دی ہے، یا یہ محض بیان بازی تھی؟
ہم یہاں ورلڈ ڈپلومیسی کی باتیں کرتے رہے اور ہر طرف چرچا کرتے رہے کہ ہم نے ایران امریکہ کی جنگ روک دی، جبکہ وہ ابھی بھی ویسے ہی جاری ہے۔ تیل کی قیمتیں پھر آسمان کو چھو رہی ہیں اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام جاری ہے۔
اس دوران ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہمارے پرانے دوست چین کے اور قریب آ گیا۔ حال ہی میں ہونے والی برک سمٹ 2026 میں چین، روس اور ایران کے صدور سمیت 11 ممالک شریک تھے، جنہوں نے آپس میں کاروبار سمیت دیگر موضوعات پر اتفاق رائے پیدا کیا۔
یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں نئے اتحاد اور معاشی بلاکس تشکیل پا رہے ہیں، جن میں پاکستان کی شمولیت یا کردار محدود دکھائی دے رہا ہے۔
ابھی جب ہماری معیشت ICU میں ہے، وہیں کسی بھی ملک کے پاکستان میں سرمایہ کاری کی کوئی خبر سننے کو نہیں مل رہی۔ یہاں تک کہ ہمارا پرانا دوست چین بھی ہم سے منہ پھیر کر بیٹھا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی، بڑھتا ہوا قرضہ اور سیاسی عدم استحکام پاکستان کی معاشی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محض بیانات اور دعووں سے خارجہ پالیسی اور معیشت نہیں چلتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی سفارتی اور معاشی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں