پشاور – وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور فوجی اداروں سے منسلک بعض ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بطور اسپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، غلط کام اور میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں ۔
تاہم نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے وزیراعلیٰ کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے۔
منصوبے ناقص کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ختم کیے گئے
· 4 ایکس پی ایس آر بیرکس کا منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ختم کیا گیا
· شیخ بدین 1 اور 2 اور لکی مروت ہاسٹل کے منصوبے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ختم کیے گئے
· کسی بھی منصوبے کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ختم نہیں کیا گیا
این ایل سی کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مئی 2025 میں ڈی آئی خان میں 2 فلائی اوورز کی تعمیر کے لیے درخواست کی تھی۔ یہ منصوبہ اس وقت مقررہ ٹائم لائن سے آگے چل رہا ہے ادارے کے مطابق امکان ہے کہ معاہدے کے تحت اکتوبر 2027 میں مکمل ہونے والا منصوبہ اپریل 2027 تک مکمل کر لیا جائے گا ۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور خیبر پختونخوا حکومت نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ترقیاتی فنڈز روک دیے ہیں ۔

خیبر پختونخوا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا این ایل سی کے منصوبوں کی کارکردگی پر سوال
33