“بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ”: پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تلخ تنقید

33

اسلام آباد – “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” والا محاورہ تو آپ نے سنا ہوگا۔ امریکہ ایران جنگ جو کہ دراصل خلیج پر اجارہ داری کی جنگ ہے، اس میں بھارت سمیت دنیا کے اکثر بڑے ممالک نے اپنے ملک اور عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی کو ترجیح دی۔
لیکن پاکستانی حکمرانوں نے یہاں بھی اپنے بھوکے پیاسے عوام اور اپنے مقروض ملک کا خیال نہیں رکھا اور فضول میں بھڑکیں مارتے رہیں۔ اس دوران دنیا ہم پر ہنستی رہی اور ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید ہم کوئی بڑا کام کر رہے تھے۔
ہماری یہ حیثیت بالکل بھی نہیں تھی کہ ہم امریکہ، ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان جنگ کو روک سکیں، کیونکہ یہ سارے ممالک ہمیں دینے والے ممالک ہیں۔ اس کے ہاں ہماری حیثیت ایک بھکاری کی ہے اور ہم سب یہ خوب جانتے ہیں کہ بھکاری کی دینے والے کے سامنے اوقات کیا ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات ضرور ہوئے لیکن معاہدہ کہیں اور ہوا جسے اسلام آباد معاہدہ کہا گیا، لیکن گارنٹر کی کمزور حالات کی وجہ سے اس پر ایک دن بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔
آج بھارت کے ساتھ امریکہ، ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور روس کے بہترین تعلقات قائم ہیں، جبکہ یہ تمام ممالک پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور ایران کے نمائندے بھارت میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ملاقات کر رہے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو بڑی تعداد میں بےدخل کیا جا رہا ہے۔
ریاست کے ذمہ دار لوگ اپنے ملک اور عوام کی تحفظ اور مفادات کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور خوامخواہ بیگانی شادی میں نہیں ناچتے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اوپر نیک سیرت حکمران مقرر فرمائے تاکہ وہ اس ملک کو عوام کے مفادات کو دیکھ کر چلائے۔ آمین۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں