بالاکوٹ – 26 اگست 2026 کو نیپال کی ترشولی وادی میں پانی صرف آسمان سے نہیں آیا تھا۔ پہاڑ ٹوٹا۔ برف، چٹان اور مٹی کا ایک عظیم تودہ نیچے آیا اور اس نے دریا کو ایک ایسی طاقت میں بدل دیا جس کے سامنے سڑکیں، پل، عمارتیں اور بستیاں چند لمحوں میں بے معنی ہو گئیں۔
کچھ ہی دن بعد تصاویر میں پورے علاقے کی شکل بدل چکی تھی۔ پل غائب تھے، سڑکیں غائب تھیں، بازار مٹی اور ملبے میں تبدیل ہو چکے تھے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس سانحے میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، گلیشیئر کا سکڑنا اور پرمافراسٹ (ہمیشہ جمی رہنے والی زمینی برف) کا پگھلنا پہاڑی ڈھلوانوں کو زیادہ غیر مستحکم بنا رہا ہے۔
یہ صرف نیپال کی خبر نہیں
کیونکہ نیپال اور بالاکوٹ کے درمیان ایک چیز مشترک ہے۔۔ پہاڑ۔ دریا۔ اور ان دونوں کے درمیان آباد انسان۔
تو کیا ایسا واقعہ بالاکوٹ میں بھی ہو سکتا ہے؟
جواب یہ نہیں کہ “کل ضرور ہوگا”۔ اور جواب یہ بھی نہیں کہ “یہاں کبھی نہیں ہو سکتا”۔
صحیح بات یہ ہے۔۔۔ بالاکوٹ میں اچانک سیلاب کا خطرہ حقیقی ہے، اور ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
دریائے کنہار کسی میدان سے نہیں گزرتا۔ وہ ایک بلند، تنگ اور ڈھلوانی پہاڑی وادی سے نیچے اترتا ہے۔ ایسے علاقوں میں شدید بارش، برف اور گلیشیئر کے پگھلاؤ، لینڈ سلائیڈنگ یا کسی قدرتی رکاوٹ کے اچانک ٹوٹنے سے پانی کا بہاؤ بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
یہ صرف کتاب کی بات نہیں
2010 میں بالاکوٹ خود اس کا تجربہ کر چکا ہے۔
سرکاری فلڈ رپورٹ کے مطابق جولائی 2010 کے شدید بارشوں کے دوران بالاکوٹ میں 208.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ کے اس وقت کے نظام کے تحت دریائے کنہار کے قریب آبادیوں کو پہلے سے خالی کروایا گیا، اور سینکڑوں گھرانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
یعنی خطرہ نیا نہیں۔ نیا صرف اس خطرے کا پیمانہ ہو سکتا ہے۔
آج ہمارے پاس پہلے سے زیادہ سڑکیں ہیں، زیادہ تعمیرات ہیں، زیادہ سیاح ہیں، زیادہ آبادی ہے۔
اور دریا؟ وہ اب بھی وہی ہے۔
اصل سوال
اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ۔۔ “کیا نیپال جیسا سیلاب بالاکوٹ میں آئے گا؟”
اصل سوال یہ ہے: اگر کبھی کنہار نے اپنی حد توڑ دی تو کیا ہم تیار ہیں؟
کیونکہ پہاڑی سیلاب میں سب سے خطرناک چیز صرف پانی نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ آنے والا ملبہ، لکڑی، پتھر، کیچڑ اور ٹوٹے ہوئے درخت بھی تباہی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اور جولائی 2026 میں شدید بارشوں کے دوران مانسہرہ اور کاغان ویلی میں فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے باعث انتظامیہ نے سیاحوں کو بعض حساس علاقوں، حتیٰ کہ سیف الملوک جھیل کی طرف جانے سے بھی روک دیا تھا۔
تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے دریا کو تفریح کی جگہ سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ شدید بارش میں دریا کے کنارے کھڑے ہو کر ویڈیو بنانا بہادری نہیں۔
دوسرا، نشیبی اور دریا کے بالکل قریب موجود آبادیوں کے لیے واضح evacuation plan ہونا چاہیے — یعنی خطرے کی صورت میں لوگ کہاں جائیں گے، کس راستے سے جائیں گے اور کون انہیں اطلاع دے گا۔
تیسرا، وارننگ صرف اسلام آباد یا پشاور کے دفتر تک نہیں رہنی چاہیے۔ بالاکوٹ کے عام آدمی تک پہنچنی چاہیے۔
مسجد کے لاؤڈ اسپیکر، موبائل الرٹ، مقامی رضاکار، پولیس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ — سب ایک ہی نظام کا حصہ ہوں۔
اور سب سے بڑھ کر کنہار کے راستے کو سمجھنا ہوگا۔
دریا سے زمین چھین کر ہم چند سال کے لیے مکان بنا سکتے ہیں، مگر جب پہاڑوں کا پانی واپس آئے گا تو وہ نقشہ نہیں دیکھے گا۔
2010 کا سبق
2010 میں بالاکوٹ میں ایک مؤثر مقام وارننگ نظام نے سینکڑوں گھرانوں کو وقت پر نکالنے میں مدد دی تھی۔
یہی سبق ہمیں آج دوبارہ سیکھنا ہے۔
نیپال نے ہمیں مستقبل کی پیش گوئی نہیں دی۔ اس نے ہمیں ایک آئینہ دیا ہے۔
پہاڑ خوبصورت ضرور ہیں، مگر بے ضرر نہیں۔ دریا زندگی دیتا ہے، مگر اس کے راستے میں کھڑے ہو کر اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
اور بالاکوٹ کے لیے شاید سب سے اہم بات یہی ہے۔۔۔ ہمیں سیلاب کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہم تیار تھے یا نہیں۔
کیونکہ جب پہاڑ بولتا ہے تو اکثر اس کی آواز سائرن سے پہلے آتی ہے — اور تب تک فیصلہ چند منٹوں کا رہ جاتا ہے۔
ریسرچ: حسنین چن بابو
ڈس کلیمر: یہ مضمون زبانی تاریخ اور ثقافتی تحقیق پر مبنی ہے، صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔







نیپال کا وہ سیلاب جو پہاڑ سے آیا — کیا کل بالاکوٹ بھی محفوظ ہے؟
30