شانواز چوک میں قتل ہونے والے ابراہیم شاہ کیس میں دونوں فراقین میں۔ باہمی راضی نامہ

81

مانسہرہ: آج سے۔ تقریباً ایک سال چھ ماہ قبل شانواز چوک میں قتل ہونے والے ابراہیم شاہ کیس میں دونوں فراقین میں۔ باہمی راضی نامہ

ایک عظیم الشان جرگہ برائے معافی نامہ چنار روڈ سبزی منڈی وحید بابو کے حجرے میں معافی نامے پر ختم ہوا جسمیں نیبرہوڈ خان بہادر سٹی ون سے اور محلہ سید آباد کے علاقے معززین جس میں خطیب جامع مسجد ناڑی مولانا حفیظ الرحمن ، عاطف میر، انجمن تاجران مانسہرہ کے عہدہ داران نے اپنی شرکت کو یقینی بنایا ۔

یہ وقوعہ 17 جون 2024 کو محلہ سید آباد نزد مدنی مسجد مانسہرہ میں گاڑی پارک کرنے کے معاملے پر معمولی تلخ کلامی پر دونوں فریقوں کے درمیان ہوا اور گولی کا نشانہ قابل عزت ہیڈ ماسٹر سید ابراہیم شاہ بن گئےاور تقریباً ڈیڑھ سال کی انتھک کوششوں اور کاوشوں کی وجہ سے مقتول سید ابراہیم شاہ کے بیٹوں (سید فراست علی شاہ، ریاست علی شاہ، جواد علی شاہ) اور ان کے رشتے داروں ( سید حارث علی شاہ، سید واثق حسین شاہ اور سید عظمت علی شاہ) نے ملزمان ولید رضا، عماد بابر اور ملک مراد کو معاف کر دیا۔ دونوں خاندانوں کے درمیان ڈیڑھ سال کی رنج آخرکار معافی اور خوشی میں تبدیل ہوئی ۔

جن لوگوں نے اس عرصے میں اپنی جانی، مالی اور سیاسی کوششیں کی اور اس جرگے کو معافی نامے تک پہچایا ان سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں ۔ ملزمان کے خاندان کے معززین خصوصاً سلیم رضا ، شجاعت علی، وجاہت علی اور عثمان غنی کا بھی مشکور ہوں جن کی دن رات کی محنت رنگ لائی اور آج کا دن ان کے خاندان کے خوش میں تبدیلی کا باعث بنا۔ میں بحثیت چیئرمین نیبرہوڈ کونسل محلہ خان بہادر ان تمام علاقے معززین کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس عرصے میں اپنی کوششوں سے اس جرگے کو معافی نامے تک پہنچایا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں