اپر کوہستان کے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس سے 37 ارب روپے سے زائد کی مبینہ خوردبرد کے ہائی پروفائل کیس میں احتساب عدالت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے آٹھ قریبی عزیز و اقارب اور ساتھیوں کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اس ضمن میں آٹھ علیحدہ احکامات جاری کیے، جن میں قرار دیا گیا کہ ضبط کی جانے والی تمام جائیدادیں جرم کی آمدن ہیں، جو مرکزی ملزم قیصر اقبال نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں کے نام پر بطور بے نامی دار خریدی تھیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ جائیدادیں حکومتِ خیبر پختونخوا کے نام منتقل کی جائیں اور نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) قانون کے مطابق منتقلی کے تمام تقاضے مکمل کرے۔ یہ احکامات نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر جاری کیے گئے، جو متعلقہ افراد کے حلف ناموں کی بنیاد پر تھیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر منیک شاہ پیش ہوئے، جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی، ایس پی عنایت اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر وقار احمد بھی عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے جائیدادیں سرنڈر کرنے والے تمام افراد کے بیانات ریکارڈ کیے اور اس امر کی تصدیق کی کہ آیا یہ اقدام ان کی آزاد مرضی سے کیا جا رہا ہے۔ تمام افراد نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے بغیر کسی دباؤ یا جبر کے جائیدادیں حکومت کے حق میں سرنڈر کی ہیں۔ جائیدادیں سرنڈر کرنے والوں میں مرکزی ملزم قیصر اقبال کا بھائی اظہر اقبال جدون، بہنیں زبیا اعجاز اور شبنم آصف، اہلیہ کا بھانجا ہاشم خان، بہنوئی اعجاز احمد، ڈرائیور صہیب الرحمن اور سید علی خان، جبکہ دوست صاقب زمان شامل ہیں۔ ان افراد نے مختلف مکانات، پلاٹس، گاڑیاں اور نقد رقوم کو جرم کی آمدن قرار دیتے ہوئے سرنڈر کیا۔ نیب کے مطابق مرکزی ملزم قیصر اقبال محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس میں بطور ہیڈ کلرک تعینات تھا، جس نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر کنٹریکٹرز سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹ (G-10113) سے 37 ارب روپے سے زائد کی غیر قانونی نکاسی اور خردبرد کی۔ نیب کا مؤقف ہے کہ ملزم نے جعلی شیڈولز اور چیکوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ واضح رہے کہ قیصر اقبال اور اس کی اہلیہ گل فرین جدون کو نیب نے 17 اکتوبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ دورانِ حراست نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ان کی رہائش گاہ سے 20 کروڑ روپے نقد برآمد کیے گئے، جو پینٹ کی بالٹیوں میں چھپائے گئے تھے۔ مرکزی ملزم قیصر اقبال کی جانب سے نیب کو دی گئی پلی بارگین کی درخواست تاحال زیرِ غور ہے۔
اپر کوہستان 37 ارب روپے خوردبرد کیس: مرکزی ملزم کے رشتہ داروں کی جائیدادیں ضبط
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
3