وردہ قتل کیس: مرکزی ملزم شمریز پولیس مقابلے میں ہلاک، گرفتاری کے بعد ہلاکت پر سنگین سوالات اٹھ گئے

70

ایبٹ آباد/مانسہرہ — وردہ قتل کیس کے مرکزی ملزم شمریز کی پولیس مقابلے میں ہلاکت نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق شمریز کو پولیس نے مقابلے سے قبل زندہ گرفتار کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شمریز کی گرفتاری کے بعد اس سے تفتیش کے دوران کیس سے متعلق کئی اہم اور حساس انکشافات سامنے آنے تھے، جن میں مبینہ سہولت کاروں، پسِ پردہ کرداروں اور کیس کے دیگر پہلوؤں سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ تاہم ان انکشافات کے منظرِ عام پر آنے سے قبل ہی ملزم کی ہلاکت نے شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے۔

واقعے کے بعد ایک اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ ملزم شمریز کی لاش کو میڈیا سے مکمل طور پر چھپا کر رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق نہ تو میڈیا کو لاش دیکھنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی موقع پر آزادانہ کوریج ممکن بنائی گئی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کیا جائے تو یہ معاملہ انتہائی حساس ہو جاتا ہے اور اس کی غیر جانبدار عدالتی تحقیقات ناگزیر ہوتی ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں اور بتایا جائے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اسے کس بنیاد پر مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ شمریز کو ایک کارروائی کے دوران مزاحمت اور فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کیا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے اب تک ایسے شواہد یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جو گرفتاری کے بعد مقابلے کے دعوے کو مکمل طور پر واضح کر سکیں۔

وردہ قتل کیس پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکا تھا، اور مرکزی ملزم کی اس انداز میں ہلاکت نے نہ صرف کیس کے انجام بلکہ انصاف کے تقاضوں پر بھی کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ عوام اور مقتولہ کے اہلِ خانہ کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی ممکنہ پردہ پوشی کا خاتمہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں