متاثرین دیامر بھاشا ڈیم

47

مانسہرہ نیوز ڈیسک: متاثرین دیامر بھاشا ڈیم نے تقریباً سال قبل اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے باب چلاس کے مقام ہر چار مہینوں کے دورانیہ پر مشتمل ایک دھرنا دیا اس کے بعد وزیرِاعظم پاکستان کی منظوری سے ایک وفاقی وزارتی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور متاثرین ڈیم کی نمایدہ کمیٹی حقوق دو ڈیم بناو کمیٹی اور وزارتی کمیٹی کے مابین اسلام آباد میں ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا۔

جس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو ان کے جائز حقوق، چولھا پے منٹ، میسنگ چولھوں کی فوری ادائیگی ،لفٹ آور پیمنٹ ، آبارکاری ، متاثرین ڈیم کی آباد کاری کے غرض سے ماڈل ٹاون میں پلاٹ کی فوری الاٹمنٹ ،بقایا جات، صحت تعلیم اور دیگر مراعات کی فوری فراہمی یقینی بنانا تھا۔

تاہم، چھ ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود واپڈا
معاہدے پر عملی پیش رفت نہ کر سکا، جس سے متاثرین میں شدید مایوسی، اضطراب اور غصے کی لہر پائی جا رہی ہے۔

حقوق دو ڈیم بناو تحریک کے قایدین واپڈا اور ڈویژنل انتظامیہ / ظلعی انتظامیہ سے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے غرض سے دفاتر کا چکر کاٹتے رہے ۔
ڈویژنل/ضلعی انتظامیہ نے تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کا محور واپڈا کو قرار دیکر تمام مسائل کا جڑ واپڈا قرار دینے کے بعد متاثرین میں واپڈا کے خلاف نفرت کا اور اشتعال پیدا ہو گیا۔

گزشتہ دن حقوق دو ڈیم بناو تحریک کے رہنماوں نے واپڈا افس تھور میں واپڈا کا افس بند کر کے ڈور لاک لگا دیا۔

اب تک واپڈا کی جانب سے اس تاخیر پر کوئی واضح بیان یا مؤقف سامنے نہیں آیا، جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ملکی سطح کا میگا منصوبے واپڈا کی ہت دھرنی کا شکار ہو رہا ہے اور ریاستی اداروں پر ڈیم متاثرین اعتماد کھو چکے ہیں۔ اگر حکومت اور واپڈا فوری اقدامات نہ اٹھائیں تو یہ صورتحال نہ صرف سماجی بدامنی کو جنم دے سکتی ہے بلکہ قومی سطح پر بھی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں