سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے مانسہرہ پولیس کا وضاحتی بیان

67

مانسہرہ : سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے وضاحتی بیان

سوشل میڈیا پر کیڈٹ کالج بٹراسی کے سابق پرنسپل، کورین شہری مسٹر سوئ کم، سے متعلق ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مانسہرہ پولیس نے انہیں کالج میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مانسہرہ پولیس اس حوالے سے حقائق عوام کے سامنے واضح کرنا چاہتی ہے:

واضح رہے کہ سابق پرنسپل کو کالج میں داخلے سے منع کرنا، یا ان کی ڈی نوٹیفکیشن سے متعلق معاملات، سابق پرنسپل اور کیڈٹ کالج بٹراسی کی انتظامیہ کے مابین ایک اندرونی انتظامی معاملہ ہے، جس سے مانسہرہ پولیس کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی پولیس نے اس حوالے سے کوئی کردار ادا کیا ہے۔

تھانہ صدر مانسہرہ پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ ایک غیر ملکی کورین شہری اپنی فیملی کے ہمراہ کیڈٹ کالج بٹراسی کے باہر موجود ہیں، جبکہ موقع پر کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ صدر وحید مراد پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

پولیس کی جانب سے موقع پر پہنچنے کا مقصد صرف اور صرف سابق غیر ملکی پرنسپل اور ان کے اہلِ خانہ کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس نے مکمل طور پر پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو منفی اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مانسہرہ پولیس نے نہ تو سابق پرنسپل کو کالج میں داخل ہونے سے روکا اور نہ ہی کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کی۔

مانسہرہ پولیس عوام سے گزارش کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ اور من گھڑت اطلاعات پر یقین نہ کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں