صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع مانسہرہ میں بھی انسداد پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے صحت کے عملے کی جانب سے گھر گھر جا کر قطرے پلانے کا عمل جاری ہے، جبکہ مہم کے پرامن اور مؤثر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے مانسہرہ پولیس کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لیے مجموعی طور پر 2032 پولیس افسران و جوان تعینات کیے گئے ہیں جو مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کے ساتھ ہمراہ ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ اور مہم کے دوران صحت کے عملے کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ محمد اظہر خان نے اس موقع پر واضح کیا کہ پولیو ٹیموں کا تحفظ اور مہم کی کامیابی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا محفوظ مستقبل قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے پولیس اپنی خدمات پوری ایمانداری اور مستعدی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔
ڈی پی او مانسہرہ کی ہدایات پر پولیو مہم کے آغاز سے قبل ضلع کے تمام تھانوں اور سرکلز میں ایس پیز کی زیر نگرانی ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے تعینات نفری کو تفصیلی سیکیورٹی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں پولیو ٹیموں کے ساتھ مؤثر رابطہ، حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مزید برآں، ضلع کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ مشکوک نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ پولیس گشت کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے تاکہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کے خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ڈی پی او مانسہرہ نے تمام ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ بذات خود فیلڈ میں موجود رہ کر پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کی نگرانی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس افسران و جوانوں کو اپنی ذاتی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ کے استعمال کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں-
انتظامیہ اور پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں، پولیو ٹیموں کو خوش دلی سے اپنے گھروں تک رسائی دیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ ضلع مانسہرہ کو پولیو فری بنانے کے قومی مشن میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

