🛑 افغان شہری پاکستانی پاسپورٹ کیسے حاصل کرتے رہے؟ ایف آئی اے تحقیقات میں اہم انکشافات.

26

اسلام آباد: افغان شہریوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کے معاملے میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن سے ایک منظم جعلسازی نیٹ ورک کا پتا چلتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق جعلی اور مشتبہ دستاویزات کے ذریعے افغان شہریوں کو پاکستانی ظاہر کر کے ان کے لیے پاسپورٹ حاصل کیے جا رہے تھے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں ایجنٹس، سہولت کار، جعلی شناخت استعمال کرنے والے افراد اور پاسپورٹ و نادرا کے بعض اہلکاروں کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (FRC)، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات میں ردوبدل کر کے غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی شناخت دی جاتی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران متعدد درخواستوں میں جعلی دستاویزات، ریکارڈ میں تضادات، تصاویر میں تبدیلی اور ایک ہی موبائل نمبر کے بار بار استعمال جیسے شواہد ملے ہیں، جو منظم جعلسازی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مجموعی طور پر 72 افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے گئے۔ یہ پاسپورٹ کراچی کے عوامی مرکز پاسپورٹ آفس سے جاری ہوئے، جن میں سے 53 درخواستیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فاروق سیال جبکہ 19 درخواستیں نائٹ شفٹ انچارج محمد باقر رضا کی جانب سے پراسیس کی گئیں۔
معاملے کی اطلاع ملنے پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے کراچی ریجنل پاسپورٹ آفس سے تمام 72 درخواستوں اور متعلقہ ریکارڈ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔




ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسپورٹ کے اجرا کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی، جبکہ بعض سرکاری اہلکاروں اور سہولت کاروں کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے امکانات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں