سوات – ضلع سوات کے تھانہ رحیم آباد کی حدود میں ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی ایک نابالغ طالبہ کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے نامزد دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعہ 24 جون 2026 کو پیش آیا۔ ایف آئی آر 25 جون 2026 کو درج کی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق عثمان آباد ایبٹ آباد کی 16 سے 17 سالہ طالبہ (ع) پشاور میں اپنے گھر سے مدرسہ جانے کے لیے نکلی اور لاپتہ ہو گئی۔ اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق لڑکی کو بعد ازاں سوات میں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئی۔ ابتدائی تفتیش میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نامزد ملزمان محمد طارق اور محمد مزمل نے طالبہ کو پشاور سے مبینہ طور پر اغوا کر کے سوات منتقل کیا۔ وہاں مبینہ زیادتی کے بعد اسے زہریلی یا نشہ آور اشیاء دی گئیں جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔
تھانہ رحیم آباد پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302، 376 اور 365 کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید قانونی اور فرانزک تحقیقات جاری ہیں۔
نوٹ: نابالغ متاثرہ کی مکمل شناخت اور اہلِ خانہ کے تفصیلی کوائف کو قانون و صحافتی ضوابط کے تحت صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
سوات: ایبٹ آباد کی مدرسہ طالبہ اغوا، مبینہ زیادتی کے بعد قتل، دو ملزمان گرفتار، مقدمہ درج.
20