کوہستان: مبینہ 40 ارب روپے سے زائد کرپشن سکینڈل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزم قیصر اقبال کے قریبی ساتھی اور مبینہ فرنٹ مین نعمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس گرفتاری کے بعد کیس میں مزید اہم انکشافات اور دیگر بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور روپوش تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے بینک اکاؤنٹس سے پاکستانی روپے اور امریکی ڈالرز میں کروڑوں روپے کی مشتبہ مالی لین دین کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
نیب کی کارروائی کے بعد ملزم کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے مزید تفتیش کے لیے اس کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق نعمان مبینہ طور پر مرکزی ملزم قیصر اقبال کے لیے مختلف شہروں میں جائیدادوں کی خرید و فروخت اور سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسلام آباد، نتھیا گلی، ایبٹ آباد اور کاغان میں متعدد کمرشل جائیدادیں نعمان کے ذریعے خریدی گئیں، جن کے مالی ذرائع، اصل ملکیت اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نعمان کی گرفتاری کے بعد ایک اور بااثر کاروباری شخصیت بھی تفتیشی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریوں اور اہم انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نوٹ: مذکورہ الزامات تحقیقات کے مرحلے میں ہیں، جن کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
🚨 کوہستان مبینہ 40 ارب روپے کرپشن سکینڈل: مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی نعمان گرفتار.
18