ملک ریاض کا عروج و زوال؟ طاقت، دولت اور احتساب پر ایک نظر.

30

پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض گزشتہ دو دہائیوں سے ملک کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں نے انہیں ملک کے بڑے بلڈرز میں شامل کر دیا۔
وقت کے ساتھ ان کے کاروبار میں غیر معمولی وسعت آئی، تاہم اسی دوران ان پر مختلف ادوار میں سرکاری و نجی اراضی، مالی بے ضابطگیوں اور دیگر معاملات سے متعلق متعدد الزامات بھی عائد کیے گئے۔ ان میں سے کئی معاملات عدالتوں اور تحقیقاتی اداروں کے زیرِ سماعت رہے، جبکہ ملک ریاض ان الزامات کی مختلف مواقع پر تردید کرتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ان کے خلاف قانونی کارروائیاں تیز ہوئیں، متعدد مقدمات قائم ہوئے اور وہ پاکستان سے باہر منتقل ہو گئے۔ اس دوران ان کے کاروبار اور اثاثوں سے متعلق بھی مختلف تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں سامنے آئیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اقتدار، دولت اور اثر و رسوخ ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ وقت بدلتا ہے اور قانون و احتساب کا عمل بالآخر ہر بااثر شخصیت تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے جائز اور حلال ذرائع سے کمائی، قانون کی پابندی اور عوامی حقوق کا احترام ہر فرد اور ادارے کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حلال رزق، دیانت داری، انصاف اور ہر آزمائش میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں