سرگودھا: منتہا زہرہ کیس، سوالات اب بھی جواب طلب.

25

سرگودھا (مانسہرہ #کرائم_رپورٹر)(مانسہرہ_ڈاٹ_کام )
منتہا زہرہ کیس میں دکان کو تو مسمار کر دیا گیا، مگر کئی اہم سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔
اگر دکاندار، اس کے بیٹے اور دیگر چار افراد بے گناہ ہیں تو اس بارے میں واضح مؤقف کیوں سامنے نہیں لایا جا رہا؟
اگر وہ مکمل یا جزوی طور پر جرم میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا کیوں نہیں ہوئی؟
اگر ارسلان ہی اصل ملزم تھا تو اس کے خلاف ٹھوس شواہد عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کیے جا رہے؟
گزشتہ تین دن سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ ارسلان کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا، جبکہ اس سے پہلے ہی اسے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پولیس کس بنیاد پر ارسلان کو مرکزی ملزم قرار دے رہی تھی؟
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ارسلان واقعی دباؤ یا کسی اور وجہ سے مارا گیا، یا اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں؟ اس بارے میں بھی حکام کی جانب سے واضح وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور پولیس اس حساس کیس پر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے باوجود باضابطہ اور واضح مؤقف کیوں جاری نہیں کر رہیں؟
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ پہلے کسی شخص کو مجرم قرار دے دیا جائے، پھر اسے سزا بھی مل جائے، اور بعد ازاں اس کی بے گناہی سے متعلق سوالات اٹھنے لگیں۔
اگر ارسلان مجرم تھا تو دیگر زیرِ حراست ملزمان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اور اگر ارسلان بے گناہ تھا تو اصل مجرم کون ہے؟
امید ہے کہ متعلقہ ادارے عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائیں گے اور ان سوالات کے واضح جواب دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں