بھکر (مانسہرہ ڈاٹ کام)
پنجاب کے ضلع بھکر کے علاقے کلم کلاں سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ بھائی محمد عارف اور فرمان علی اپنی عدالتی سزا مکمل کرنے کے باوجود آزاد زندگی نہیں گزار سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق دونوں افراد نے اپنی سزا پوری کر لی ہے، تاہم شدید عوامی ردِعمل، امن و امان کے خدشات اور ان کی اپنی حفاظت کے پیشِ نظر انہیں عام آبادی میں واپس بھیجنے کے بجائے ایک نامعلوم اور محفوظ سرکاری مقام پر سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
خوفناک ماضی
دونوں بھائی پہلی مرتبہ 2011 میں قبروں کی بے حرمتی، مردوں کی باقیات نکالنے اور ان سے متعلق سنگین جرائم کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہیں عدالت سے سزا ہوئی اور وہ قید کاٹنے کے بعد رہا ہوئے۔
رہائی کے بعد 2014 میں انہیں ایک بار پھر قبر کشائی سے متعلق ایک اور سنگین مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جس پر عدالت نے انہیں 11 سال 4 ماہ قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔
موجودہ صورتحال
ذرائع کے مطابق ان کی قانونی سزا اب مکمل ہو چکی ہے، لیکن انتظامیہ نے انہیں ان کے آبائی علاقے واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں کسی محفوظ سرکاری مقام یا خصوصی نگرانی کے مرکز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
انتظامی ذرائع کے مطابق یہ اقدام عوامی تحفظ اور ممکنہ ہجومی تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، کیونکہ علاقے میں ان کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اس حوالے سے حکام کی جانب سے ان کے موجودہ مقام کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی لوکیشن کو خفیہ رکھا گیا ہے۔
🚨 بھکر کے بدنام زمانہ ‘آدم خور’ بھائیوں کی سزا مکمل، مگر رہائی پھر بھی نہ مل سکی، آخر کیوں؟
32