تیسری بیوی: ڈاکٹر وردہ اغواء و ق تل کیس کی مرکزی ملزمہ “بلا کلاتھ والی ردا”
ڈاکٹر وردہ مشتاق کے دلخراش اغواء و ق تل کیس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی خاتون ملزمہ ’’بلا کلاتھ والی ردا‘‘ نے مبینہ طور پر تین کروڑ روپے مالیت کے زیورات کی خاطر منشیات فروشوں کے ساتھ مل کر ایک مسیحا ماں کو بے رحمی سے ق تل کروایا۔ اس سفاکی کے نتیجے میں نہ صرف ڈاکٹر وردہ اپنی جان سے محروم ہوئیں بلکہ ان کے دو معصوم بچے بھی ماں کی شفقت، محبت اور سایہ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے۔
ملزمہ نے دوستی، بھروسے اور انسانی رشتوں کی حرمت کو اس بے دردی سے پامال کیا کہ معاشرے میں اعتبار اور اعتماد کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔
کیا پاکستان کے عدالتی نظام میں ایسے مجرموں کو سزا مل سکتی ہے؟ یا شک کا فائدہ لے کر بری ہو جائینگے؟
ڈاکٹر وردہ کیس میں اگر درج ذیل شواہد ثابت ہو جائیں تو ملزمان کو انتہائی سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں:
قتل عمد (302 PPC) : سزائے موت یا عمر قید۔
اغواء برائے تاوان یا اغواء برائے قتل (7 اے ٹی اے/ انسداد دہشتگردی ایکٹ) : عمر قید سے سزائے موت۔
منصوبہ بندی، معاونت اور سہولت کاری : شریکِ جرم کو بھی وہی سزا۔