کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ — علاج گاہ یا فرعونیت کا مرکز؟

80

**کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ — علاج گاہ یا فرعونیت کا مرکز؟

ایک چشم دید گواہ کی داستان**

کبھی کبھی انسان پر ایسے لمحے گزرتے ہیں جن میں وہ امید اور بے بسی کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میں اپنے والد صاحب کو شدید حالت میں بالاکوٹ سے کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ لے کر پہنچا۔ رات کے تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا۔

ایمرجنسی میں پہنچ کر پہلے فیس ادا کی، پرچی حاصل کی، اور پھر ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے والد کو دیکھتے ہی ایمرجنسی بیڈ پر منتقل کر دیا اور چند انجیکشن لکھ کر دیے۔ میں بھاگم بھاگ میڈیکل اسٹور سے ادویات لے کر واپس ایمرجنسی میں آیا۔ وہاں موجود میل نرسنگ اسٹاف نے فوری طور پر ڈرپ لگانا شروع کیا، مگر حیرت انگیز طور پر ڈرپ پاس کرتے وقت دو تین لڑکے بدلتے رہے، جیسے تجربہ کار نرسز نہیں بلکہ ٹرینیز کسی تجربے سے گزر رہے ہوں۔ خیر، بڑی مشکل سے ڈرپ لگا دی گئی۔

نرسنگ اسٹاف کی بے حسی

مزید انجیکشن ایڈ کرنے تھے، جو میں دوبارہ باہر سے لے آیا، مگر وارڈ میں موجود نرسنگ اسٹاف اُس وقت گیس ہیٹر کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے اور مزے سے گپیں ہانک رہے تھے۔

میں نے مودبانہ انداز میں کہا:
“سر! یہ انجیکشن ڈرپ میں لگا دیں، مریض کی حالت خراب ہے۔”

اس پر ایک نرس نے انتہائی بدتمیزی سے جواب دیا:
“باہر رکیں! ابھی ہم فارغ نہیں ہیں۔”

یہ جواب میرے لیے نہ صرف حیران کن تھا بلکہ انتہائی تکلیف دہ بھی۔

مایوسی کے عالم میں میں واپس ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور اپنا میڈیا کارڈ دکھایا۔ کارڈ دیکھتے ہی جیسے ان کی حقیقت بدل گئی ہو—پورا عملہ فرشتوں کی طرح میرے والد کے اردگرد جمع ہو گیا۔ انجیکشن ڈرپ میں لگائے گئے، اور والد صاحب کو کچھ افاقہ محسوس ہوا۔

ایک اور مریض کی بربادی اور پولیس کی مداخلت

اسی دوران ایک لڑکا گھبرایا ہوا میرے پاس آیا۔ شاید وہ مجھے جانتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے چچا ایمرجنسی میں پڑے ہیں اور ڈاکٹر نے غلط انجیکشن لگا دیا ہے جس سے وہ بے ہوش ہوگئے۔ جب انہوں نے ڈاکٹر سے سوال کیا تو ڈاکٹر نے بدتمیزی کے بعد تھانے فون کر کے پولیس بلوائی اور پورے خاندان کو حوالات بھجوا دیا۔

اپنے ذرائع استعمال کر کے وہ دوبارہ ہسپتال پہنچے مگر مریض کی حالت مزید خراب تھی اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ وہ مجھ سے بیان ریکارڈ کروانے آئے، مگر والد کی مصروفیت کے باعث وہ بعد میں ملے ہی نہیں۔

رات کا عذاب — نلکی لگوانے میں بھی فرعونیت

رات کے دو بجے والد صاحب کو پیشاب میں شدید تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر نے ایک سرخ داڑھی والے بندے کو نلکی لگانے کا کہا۔ مگر جو شخص آیا وہ میل نرس نہیں بلکہ کوئی سویپر جیسا معلوم ہوتا تھا۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ یہ کام آپ خود کریں، مگر انہوں نے پھر بھی اسی لڑکے کو بھیج دیا۔ اس نے نلکی پاس کرنے کی کوشش کی مگر نہ کر سکا، الٹا والد صاحب کو زخمی کر دیا اور خون جاری ہو گیا۔

رات انتہائی کرب میں گزری۔ باہر ٹھنڈ تھی، والد صاحب تکلیف میں تھے، اور تمام نرسنگ اسٹاف اپنے کمروں میں گیس ہیٹر جلاکر موجیں کر رہا تھا۔ وارڈ میں شفٹ کرنے کی درخواست پر جواب ملا کہ “بیڈ خالی نہیں۔”

ہم رات بھر بینچ پر بیٹھے صبح کا انتظار کرتے رہے۔

صبح — انسانیت کی ایک جھلک

صبح ایک نئے ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگی۔ اس نے الٹراساؤنڈ لکھ کر دیا۔ الٹراساؤنڈ روم میں موجود لیڈی ڈاکٹر نے والد صاحب سے بہت شفقت اور انسانیت کے ساتھ بات کی۔ ان کے رویے سے دل خوش ہوا کہ یہاں سب ہی بے حس نہیں۔

ایمرجنسی واپس پہنچا تو ڈاکٹر نے سرجن کو ریفر کر دیا۔ سرجن کے گیٹ پر موجود واچ مین نے ٹیسٹ فوراً اندر پہنچائے اور ڈاکٹر بھی خود باہر آ کر والد کو چیک کرنے آئے—یہ اچھا رویہ تھا۔

ایکسرے کرایا اور واپس ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ کلین شیو ڈاکٹر تھا۔ ایکسرے وہیں موجود ایک لمبی داڑھی والے صاحب کو دکھایا گیا، جن کی موچھیں مُنڈی ہوئی تھیں۔ وہ بڑے رعب سے بولے:

“یہ بیٹھنے کی جگہ نہیں، باہر جائیں!”

میرا دل چاہا کہ اپنا تعارف کراؤں، مگر پھر سوچا کہ میری شناخت نہیں، یہ سینکڑوں بے بس انسانوں کی بدقسمتی کا منظر ہے۔

میں نے عاجزی سے کہا کہ والد کی حالت ٹھیک نہیں، انہیں داخل کرلیں۔ ڈاکٹر نے جواب دیا:
“گھر لے جائیں، ٹھیک ہو جائیں گے۔”

واپسی اور موت

میں والد صاحب کو لے کر واپس آیا۔ رات گئے انہوں نے وفات پائی۔
وفات سے کچھ دیر قبل انہوں نے میرے ہاتھ پکڑ کر کہا:

“اگر تمھارے پاس قلم کی طاقت ہے تو ان ڈاکٹروں کو سامنے لانا… ان کی حقیقت عوام تک پہنچانی۔”

یہ الفاظ میرے دل پر نقش ہو گئے۔

آنے والا قدم — ڈاکومنٹری اور پریس کانفرنس

میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس واقعے کو چھپنے نہیں دوں گا۔ میں ایک تفصیلی ڈاکومنٹری بنا رہا ہوں اور جلد تمام میڈیا چینلز کو بلا کر پریس کانفرنس میں عوام کے سامنے سارا سچ رکھوں گا۔

میری یہ شکایت خاص طور پر بابر سلیم سواتی تک بھی پہنچ رہی ہے کہ اگر ان کے گھر کے پاس واقع ہسپتال کا یہ حال ہے، تو باقی علاقوں میں عوام کس حال میں ہوں گے؟

بالاکوٹ ہسپتال — امید کی کرن

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اگرچہ بالاکوٹ ہسپتال میں سہولیات محدود ہیں، مگر وہاں کے ڈاکٹرز نے والد کی ابتدائی حالت میں بھرپور محنت، پروفیشنلزم اور اخلاقی رویہ دکھایا۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں