عدالتوں میں دو سالہ تجربے کی شرط کے بغیر سول ججز کی تعیناتی کے فیصلے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ

65

ہریپور : خیبرپختونخوا کی عدالتوں میں دو سالہ تجربے کی شرط کے بغیر سول ججز کی تعیناتی کے فیصلے کے خلاف صوبہ بھر کی طرح ہری پور ڈسٹرکٹ بار نے بھی آج عدالتی کاروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،مطالبہ منظور نہ ہونے پر خیبرپختونخوا بار کونسل نے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ہری پور:خیبرپختونخوا بار کونسل کی ہدایات کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہری پور کے تمام وکلاء آج بروز بدھ 17 دسمبر صوبہ بھر کی طرح ہری پور میں بھی کسی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے اور عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے یہ اعلامیہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ملک رب نواز کی طرف سے جاری کیا گیا ہے ۔

جب کہ رابطے پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہری پور کے صدر اسد سعید خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ہری پور ڈی بی اے کی کابینہ خیبرپختونخوا بار کونسل کے فیصلے اور ہدایات کی مکمل تائید کرتے ہوئے محکمہ قانون خیبرپختونخوا کی طرف سے اس نوٹیفیکیشن کو مسترد کرتی ہے جس میں سول ججز کی تعیناتی کے لیے بطور وکیل دو سالہ تجربے کی شرط ختم کی گئی ہے اور بغیر کسی تجربے کے سول ججز کی بھرتی کی اجازت دی گئی ہے۔

ڈی بی اے کے صدر اسد سعید خان نے بتایا کہ خیبرپختونخوا بار کونسل واضح طور پر اس امر پر متفق ہے کہ 18 گریڈ کی سول جج کی آسامی کے لیے دو سال بطور وکیل تجربہ ناگزیر ہے کیونکہ صرف قانون کی ڈگری عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے کافی نہیں چونکہ یہ شرط بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ کی مشاورت سے متعارف کرائی گئی تھی اس لیے اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنا وکلاء اور عدلیہ کے وقار اور مفاد کے خلاف ہے۔

اسد سعید خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ خیبرپختونخوا بار کونسل نے بغیر مشاورت کیے گئے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے کیونکہ ایسے ججز جنھیں عدالتی کارروائی اور عملی قانونی امور کا تجربہ نہ ہو وہ عوام کے اعتماد کو مجروح کریں گے اس لیے بار کونسل نے اس غیر مناسب ترمیم کو فوری طور پر واپس لینے ک مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں