مانسہرہ: او پی ڈی بند کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا۔جتنا ہمارے ڈاکٹرز معمولی غلطی کی نشاندہی پر پرچے کروانے کے لئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں،کاش اتنی ہی یکجہتی کنگ عبداللہ ہسپتال میں کسی مریض کی جان بچانے کے لئے بھی دکھا لیتے۔
چند ہی مہینے پہلے خضر کی موت کی کہانی کوئی افسانہ نہیں،یہ ہمارے سامنے ہوا سچ ہے۔وہ زندگی کی بھیک مانگتا رہا، علاج کی استدعا کرتا رہا، سب کی آنکھیں بے نیاز رہیں، اور ضمیر خاموش رہا۔ایک زندہ انسان آہستہ آہستہ مرتا رہا، اور نظام تماشائی بنا رہا۔
کچھ دن پہلے کاغان نیوز والے رفاقت اعون بھائی کے والد فوت ہوئے جو کہانی انھوں نے کنگ عبداللہ کی سنائی وہ بھی ایسی ہے کہ لاپرواہی کو سن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ کیسا المیہ ہے کہ ذرا سی بات پر سرکاری او پی ڈی بند کر دی جاتی ہے، ہسپتال ویران کر دیے جاتے ہیں،لیکن جتنا بھی سنگین مسئلہ ہو، نجی کلینک کبھی بند نہیں ہوتے۔
میں خود اس بات کا عینی شاہد ہوں۔ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردا کی شہادت پر احتجاج ہوا، سرکاری ہسپتال بند تھے، مریض در بدر تھے،مگر نجی کلینک پوری آب و تاب سے کھلے تھے، جیسے وہاں کوئی احتجاج، کوئی
غم، کوئی اصول سرے سے موجود ہی نہ ہو۔
اب خبر آئی ہے کہ مانسہرہ کے چیئرمین سٹی، خادم عبد الوحید کو کنگ عبداللہ ہسپتال میں مریضوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔کس جرم میں؟ایک ایسی ویڈیو پر، جس میں نہ کوئی بدتمیزی تھی، نہ کوئی توہین،صرف ایک مریض کے لیے درست علاج کی فریاد تھی۔
لیکن شاید یہی فریاد کسی کی انا کو چبھ گئی،اور اسی ویڈیو کو بہانہ بنا کر ڈیوٹی سے bunk مارنے کا ایک اور جواز مل گیا۔یقین مانیں، بہانوں کے سہارے او پی ڈی چھوڑ دینا اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ہم ہر اچھے ایماندار ڈاکٹر کو قوم کا مسیحا سمجھتے ہیں اور ان تمام ڈاکٹرز پر ہمیں فخر ہے۔
پر ہر ڈیوٹی نہ کرنے والے ڈاکٹر کو خزانے پر بوجھ بھی سمجھتے وہ اس قوم کا بدترین دشمن ہے۔کیونکہ وہ غرہبوں کے گھر اجاڑتا ہے ایسے لوگ اپنا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں جانوں سے کھیلتے ہیں۔
وحید بھائی! مضبوط رہیں۔آپ کی آواز اکیلی نہیں، یہ ان ہزاروں
مریضوں کی چیخ ہے جو روز سرکاری ہسپتالوں کی دہلیز پر تڑپتے
ہیں۔انشاء اللہ وہ دن آئے گا جب قانونی کارروائی صرف سوال
اٹھانے والوں پر نہیں،بلکہ جواب نہ دینے والوں پر بھی ہو گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ایک منظم کمپین چلائی جائے،ان تمام کیسز کو اکٹھا کیا جائے جہاں ڈاکٹرز نے نااہلی، غفلت یا زیادتی کی،اور انہیں انتظامیہ اور قانون کے سامنے رکھا جائے۔سوشل ورکر کی زیر نگرانی ایسی ٹیم بنائی جائے جو ان کیسز کو جمع کرے انکا وٹس ایپ گروپ ہو میٹنگز ہو ،اور پھر قانونی کاروائی کی جائے ۔
پی ایم اینڈ ڈی سی جہاں سے انکو لائسنس جاری کئے جاتے ہیں
وہ کیسز ان تک پہنچائے جائیں تب جا کر یہ سلسلہ کہیں نہ کہیں
شاید تھم جائے ۔
کیونکہ ہر سرکاری ہسپتال میں لوگ رل رہے ہیں،روز ایسی کہانیاں
سامنے آتی ہیں کہدل خون کے آنسو روتا ہے،اور سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا غریب ہونا اتنا بڑا جرم ہے؟
اور تمام سوشل ایکٹویسٹ اور حق پرست اگر اس معاملے پر آواز نہیں اٹھاتے تو یہ شعر آپکی نذر
جلتے گھر کو دیکھنے والو ، پھونس کا چھپر آپکا ہے
آگے پیچھے تیز ہوا ہے آگے مقدر آپکا ہے
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہو اگلا نمبر آپکا ہے
از:رجب علی آزاد