مانسہرہ : وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان اور ایس پی ٹریفک پولیس مانسہرہ شہزادی نوشاد گیلانی نے ہزارہ یونیورسٹی میں ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد ہزارہ یونیورسٹی کی طرف سے نان رجسٹرڈ بائیکا سمیت انفرادی طور پر چلنے والی گاڑیوں کو رجسٹرڈ کرنے کے لئے بنائی گئی موبائل ایپ لانچ کرنے، عوام الناس اور نجی گاڑی مالکان کو ایپ کی افادیت سے آگاہی سمیت دیگر آپریشنل معاملات طے کرنا تھا ۔
اس حوالے سے ایس پی ٹریفک کو ملٹی میڈیا پریزنٹیشن دی گئی اور موبائل ایپ کی خصوصیات، کام کرنے کے طریقہ کار اورفوائد کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وائس چانسلر نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد عوامی خدمت کے ساتھ جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لئے حکومتی کوششوں میں معاونت کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہزارہ یونیورسٹی نے Mehfoozنامی ایپ تیار کر لی ہے۔
جس کی مدد سے غیر رجسٹرڈ بائیکا سمیت انفرادی سطح پر ٹرانسپورٹ چلانے والوں کو حکومتی و قانونی دائرہ کار میں لانا ممکن ہو سکے گا۔وائس چانسلر نے کہا کہ یہ منصوبہ یونیورسٹی کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کا عملی مظہر ہے اور اس سے معاشرتی مسائل کے حل میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار کو فروغ ملے گا۔وائس چانسلر نے امید ظاہر کی کہ ٹریفک پولیس کے تعاون سے یہ ایپ جلد لانچ کر دی جائے گی۔
ایس پی ٹریفک پولیس مانسہرہ شہزادی نوشاد گیلانی نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان کے ویژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایپ نان رجسٹرڈ بائیکیا کے خاتمے، ٹریفک نظم و ضبط ، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی سہولت کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ موبائل ایپ کے ذریعے غیر قانونی اور بغیر رجسٹریشن بائیکیا کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی جس سے ٹریفک پولیس کو مؤثر کارروائی میں مدد ملے گی۔
شہزادی نوشاد گیلانی نے اس اقدام کو یونیورسٹی اور پولیس کے مابین بہترین اشتراکِ عمل قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایپ کے اجرا سے شہریوں کو محفوظ، منظم اور بااعتماد سفری سہولت میسر آئے گی جبکہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار،ڈائریکٹر اورک، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، ڈائریکٹر آئی ٹی، ٹرانسپورٹ آفیسر اور دیگر متعلقہ انتظامی افسران بھی موجود تھے۔