ایبٹ آباد: کاغان کالونی واقعہ: ایک قتل نہیں، کئی سوالات؟
گائوں ٹنن، قلندرآباد سے تعلق رکھنے والے کاشف کیخلاف اپنے تین معصوم بچوں اور ایک وفادار بیوی کے قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ میرپور میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
کاغان کالونی میں پیش آنے والا اندوہناک واقعہ محض ایک گھریلو سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، نفسیاتی اور انتظامی نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ کرائم سین سے سامنے آنے والے ابتدائی شواہد کے مطابق ملزم کاشف نے مبینہ طور پر پہلے اپنے بچوں کو زہر دینے کی کوشش کی، جس پر اہلیہ نے مزاحمت کی۔ اسی دوران بیوی پر تشدد کیا گیا، جس کے بعد ملزم نے اپنی اعترافی ویڈیوز بھی بنائیں۔
یہ واقعہ جتنا سفاک ہے، اتنا ہی پیچیدہ بھی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ہوا بلکہ یہ ہے کہ کیوں ہوا؟
کاشف کی ویڈیوز اور طرزِ عمل واضح طور پر شدید ذہنی دباؤ، نفسیاتی الجھن اور ممکنہ ذہنی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی ایسے ذہنی بھنور میں پھنس چکا تھا جہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق شدید ڈپریشن، مستقل ذہنی دباؤ اور بعض نشہ آور اشیاء دماغ میں ڈوپامین کے نظام کو متاثر کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں انسان غیر معمولی غصے، مایوسی اور خود تباہ کن رویوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے کئی کیسز میں یہ دیکھا گیا ہے کہ متاثرہ شخص نہ صرف خود کو بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی نقصان پہنچا دیتا ہے۔
تاہم اس مرحلے پر کسی مخصوص نشے یا عنصر کو ذمہ دار ٹھہرانا قبل از وقت اور غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ اصل حقائق کا تعین پولیس تفتیش، فرانزک رپورٹس اور میڈیکل شواہد ہی کر سکتے ہیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ایسے المیوں کو جنم نہیں دے رہا؟