اپنے اردگرد، پڑوس، حلقۂ احباب اور عزیز و اقارب سے رابطے میں رہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹیں

95

مانسہرہ : اپنے اردگرد، پڑوس، حلقۂ احباب اور عزیز و اقارب سے رابطے میں رہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹیں۔
آپ اگر پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، مگر اگر آپ کے پڑوس میں کسی کے بچے بھوکے ہیں تو یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کا خیال رکھا جائے۔

بعض اوقات ہمدردی کے صرف دو بول کسی انسان کو جینے کا حوصلہ دے دیتے ہیں۔ کوئی شخص تنگدستی، قرضوں کے بوجھ یا بے روزگاری کا شکار ہو تو ہم کسی نہ کسی حد تک اس کی مدد کر سکتے ہیں، دلاسہ دے سکتے ہیں، اس کے آنسو پونچھ سکتے ہیں اور اسے دوبارہ زندگی کی دوڑ میں کھڑا کر سکتے ہیں۔

معاشرہ اُس وقت بدحالی کا شکار ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کا احساس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جنازوں پر غم دکھانے کے لیے سینکڑوں لوگ آ جاتے ہیں، مگر زندگی میں سہارا دینے والے اگر دو چار بھی مل جائیں تو انسان مشکل مراحل آسانی سے طے کر لیتا ہے۔

آج کاغان کالونی میں حالات سے تنگ آ کر ایک باپ نے اپنے تین معصوم بچوں کو زہر دے دیا۔ یقین جانیے دل پھٹ جاتا ہے۔
وہ کون سا دکھ ہوگا، وہ کیسی مجبوری ہوگی، وہ لمحہ کیسا ہوگا جب ایک باپ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے ہی ہاتھوں موت کی وادی میں دھکیل دیا؟

کیا ہمارا معاشرہ ایک انسان کے تین بچوں کو پال نہیں سکتا تھا؟
کیا ہم نے اپنے گھروں کی دیواریں اتنی اونچی کر لی ہیں کہ پڑوس میں بھوک سے بلکتے بچوں کی آوازیں بھی سنائی نہیں دیتیں؟

ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنی ذات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ ہمارے مال و اسباب میں غریب اور نادار کا بھی حصہ ہے، اسی سے معاشرے کا توازن قائم رہتا ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم نہیں کہ کچھ لوگ بے پناہ نعمتوں میں ہوں اور کچھ ایک وقت کی روٹی کو ترسیں۔ اللہ نے تمام انسانوں کے لیے وافر رزق نازل فرمایا ہے۔
کیا اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی ہے؟
کمی اگر ہے تو ہمارے دلوں میں ہے۔

اگر ہر صاحبِ حیثیت شخص دو چار مساکین کی بھوک مٹا دے تو اس دھرتی پر کوئی بھوکا نہ سوئے، اور کوئی انسان بھوک و افلاس سے تنگ آ کر خودکشی پر مجبور نہ ہو۔

ملک دلاور خان
(المعروف دلاور پہالا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں