مانسہرہ : کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ میں پیش آنے والے ایک نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور تشویشناک واقعے کے خلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیرِ اہتمام ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ڈسٹرکٹ چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر احمد سعید کے ساتھ بدتمیزی، سوشل میڈیا پر منظم اور من گھڑت کردار کشی، اور ہسپتال کے پُرامن، پیشہ ورانہ اور علاج و معالجے پر مبنی ماحول کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر احمد سعید، چیئرمین ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ضلع مانسہرہ ڈاکٹر ناصر علی شاہ کاکاخیل، صدر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر عابد علی خان، صدر پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع مانسہرہ ابرار خان سواتی اور صدر پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ راجہ ظہور عباسی نے میڈیا کے سامنے حقائق رکھتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔
مقررین نے واضح کیا کہ وحید نامی شخص نے جان بوجھ کر اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد سعید کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر جھوٹے، بے بنیاد اور گمراہ کن مواد کے ذریعے ایک منظم مہم کے تحت کردار کشی کی گئی ۔ مقررین کے مطابق یہ عمل نہ صرف ایک سینئر ڈاکٹر کی عزت و وقار پر حملہ ہے بلکہ صحت جیسے حساس شعبے کے پُرامن، انسان دوست اور خدمت پر مبنی ماحول کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے۔
مقررین نے مزید بتایا کہ مذکورہ شخص چند دن قبل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ ڈاکٹر عبدالعلیم تنولی پر اپنے دو افراد( جن کی ضمانت کینسل ہونے پر جیل ہوئی تھی) کو غیر ضروری طور پر داخل کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق چونکہ یہ درخواست طبی معیار اور مقررہ اصول و ضوابط پر پورا نہیں اترتی تھی، اس لیے داخلہ ممکن نہ ہو سکا۔ مقررین کے مطابق اسی بات پر مذکورہ شخص مشتعل ہوا اور بعد ازاں ہسپتال کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا۔
مقررین نے بتایا کہ قانون اور ضابطے کے عین مطابق ہسپتال انتظامیہ کو وحید نامی شخص کی بدتمیزی اور نازیبا سلوک سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا گیا، جس پر ہسپتال انتظامیہ نے بروقت اور ذمہ دارانہ کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس امر کا واضح اور دوٹوک اعلان کیا گیا کہ اس کیس کی ہر فورم پر مکمل، سنجیدہ اور بھرپور قانونی پیروی کی جائے گی اور معاملے کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) تک لے جایا جائے گا تاکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور کردار کشی جیسے جرائم کا مؤثر تدارک ممکن ہو سکے۔
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے رہنماؤں نے میڈیا کو مزید آگاہ کیا کہ مذکورہ شخص اس سے قبل بھی سرکاری ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ چند ماہ قبل ملیریا سپروائزر کو سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور گالم گلوچ کرنے پر اس کے خلاف ڈی ایچ او مانسہرہ کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی، جس میں جرم ثابت ہونے پر عدالت کی جانب سے مذکورہ شخص کو جیل کی سزا سنائی گئی، تاہم بعد ازاں تحریری معافی نامہ جمع کروانے پر اسے رہائی ملی۔
مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈاکٹرز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور سپورٹنگ سٹاف عملے اور ریسورسز کی شدید کمی کے باوجود شب و روز عوام کی قیمتی جانیں بچانے اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اور ان کے وقار، تحفظ اور عزتِ نفس پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت، شفاف اور مثالی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ہسپتالوں کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی جرات نہ ہو۔
جاری کردہ: گرینڈ ہیلتھ الائنس کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ۔